مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 306
بھی یہی مشورہ دیا کہ حضرت مولوی صاحب کو خلیفہ بنایا جائے۔میں پاس تھا۔جب حضرت مولوی صاحب کو یہ پیغام پہنچایا گیا۔اس وقت آپ نے ایک لوٹا پانی کا منگوایا اور وضو کیا اور نواب صاحب کے اس مکان میں جہاں آجکل لائبریری ہے اور حضرت فاضل مولانا مولوی شیر علی صاحب کے دفتر کا کمرہ ہے۔یہاں آپ نے علیحدگی میں نماز پڑھی اور سجدہ میں گر کر بہت روئے۔اس کے بعد سب لوگ باغ میں جمع ہوئے۔جہاں حضرت مسیح موعود کا جسد مبارک چارپائی پر رکھا تھا۔وہاں ایک تحریر جس میں آپکی خدمت میں یہ درخواست تھی کہ عہدہ خلافت کو قبول کریں اور کہ ہم سب آپ کی اسی طرح اطاعت کریں گے جس طرح حضرت مسیح موعود کی اطاعت کرتے تھے۔اس پر ممبران انجمن اور دیگر اکابران کے دستخط ثبت ہو چکے تھے۔عاجز راقم نے پڑھ کر سنائی۔اس کے بعد حضرت مولوی صاحب نے ایک تقریر کی۔جس کا خلاصہ یہ تھا کہ میں تو چاہتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کی اولاد میں سے یا کسی اور بزرگ کو خلیفہ بنایا جاتا۔میں تیار ہوں کہ اگر حفیظه بیگم (حضرت مسیح موعود کی سب سے چھوٹی صاحبزادی جس کی عمر اس وقت قریباً چار سال تھی) کو خلیفہ بنایا جائے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کروں۔تم مجھے خلیفہ بنانا چاہتے ہو تو تم کو میری اطاعت کرنی ہو گی۔اس پر سب نے کہا کہ ہم اطاعت کریں گے۔پھر آپ بیٹھ گئے اور بیعت شروع ہوئی۔سب حاضرین نے بیعت کی۔دعا ہوئی۔اور اس کے بعد آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ پڑھایا۔وہ تحریر جو میں نے پڑھی اور آپ کی تقریر ہر دو اخبار بدر میں شائع ہوئی تھیں۔ابتدائے ایام خلافت میں آپ اکثر وقت اندر خلوت میں رہتے۔دعاؤں میں بہت مصروف رہتے۔دعا کے واسطے آپ کے لئے ایک علیحدہ کمرہ بنوا دیا گیا تھا۔فرمایا کرتے، مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرے کندھوں پر ایک بڑا بھاری بوجھ رکھ دیا گیا ہے جس سے میں دیا جاتا ہوں۔اس وقت آپ کی دن کی نشست گاہ مسجد مبارک میں ہوتی تھی۔مگر چونکہ بیمار بھی آپ کی توجہ کے محتاج ہوتے تھے اور بیماروں کا مسجد میں جمع ہو نا مناسب نہ تھا۔اس واسطے آپ نے کچھ عرصہ کے بعد پھر اپنے مطب میں بدستور بیٹھنا شروع کر دیا۔