مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 304
۳۰۴ سنایا اور حضرت مسیح موعود نے ہی اس کتاب کا نام نورالدین رکھا۔اس کتاب کے چھاپنے اور شائع کرنے کا کام آپ کے قدیمی دوست اور مخلص صادق حضرت مولوی حکیم حاجی حافظ فضل الدین صاحب مرحوم نے کیا تھا۔زمانہ خلافت میں آپ نے کوئی تصنیف نہیں کی۔گزارے کی صورت قادیان میں آپ کے گزارے کی صورت بظاہر طب کے سوا اور کچھ نہ تھی۔مگر آپ کے خانگی اخراجات۔مہمان نوازی ، یتانی و مساکین کی پرورش دینی چندوں میں سب سے بڑھ کر حصہ لینا۔ان سب پر ایک معقول رقم خرچ ہوتی تھی۔اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ رقوم کہاں سے آتی تھیں۔فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے میری ضرو رتوں کو پورا کرتا ہے۔اور مجھے رزق مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ عطا کرتا رہتا ہے۔کبھی آپ کی کوئی ایسی ضرورت نہ ہوتی تھی جو پوری نہ ہو جائے اور غیب سے اس کے واسطے سامان بن نہ جائے۔آپ کے سفر اپنے وطن بھیرہ سے ہجرت کر کے قادیان آجانے کے بعد آپ نے کوئی سفر بغیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ نہیں کیا۔آپ کے سفر درج ذیل ہیں۔(1) ریاست جموں کے بعض اراکین نے باصرار آپ کو چند روز کے واسطے جموں بلایا۔اور وہاں مہاراجہ صاحب نے آپ سے خواہش کی کہ پھر ریاست میں ملازمت کرلیں مگر چونکہ اس امر کے واسطے حضرت مسیح موعود سے کوئی اجازت نہ تھی اس واسطے آپ انکار کر کے واپس چلے آئے۔عاجز ان ایام میں ریاست جموں میں ملازم تھا۔(۲) ریاست بہاولپور کے نواب صاحب نے ایک دفعہ آپ کو اپنے علاج کے واسطے بلایا