مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 24
سلام السلام کرانے اور ہر ایک زیور کی صنعت کاریوں کے دکھانے میں تمام وقت گزار دے تو ظاہر ہے کہ بے چارے لوہار اور نجار وغیرہ دوسرے پیشہ در سیاح اپنے مفید مطلب واقفیت حاصل کرنے سے رہ جائیں گے۔مناسب یہی ہے کہ مہتمم صاحب اپنے کمرہ میں بیٹھے ہوئے انتظام و اہتمام کی مشین چلاتے رہیں اور سیر کرنے والے آزادی سے جہاں چاہیں سیر کریں۔اس موقعے پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مورخ ایسا ہونا چاہئے جو ہر قسم کے نتائج صحیح صحیح اخذ کرے اور کوئی پہلو بلا تنقید نہ رہنے دے لیکن یہ صرف ایک دل خوشکن خیال ہی خیال ہے کیونکہ بہر حال اس کا کام محدود ضرور ہو گا اور ظاہر ہے کہ انسان غیر محدود ذرائع علوم کا خواہش مند ہے۔دوسرا نقص جدید تاریخ نویسی میں یہ ہے کہ مورخین اپنی محدود عقل و فہم کے موافق واقعات کا تسلسل قائم کرنے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں کہ بعض زبر دست اور قابل اعتبار روایتوں کو چھوڑ کر کمزور یا خود تراشیدہ روایتوں اور تھیوریوں کو ترجیح دیں۔اس طرح اصل تاریخ کا خون ہو کر تاریخ ایک جھوٹا افسانہ اور فرضی ناول بن سکتی ہے۔لیکن جو تاریخیں اسلامی طرز پر لکھی گئی ہیں ان میں یہ نقص نہیں۔ہر شخص کی نظر سے اپنی زندگی میں بہت سے ایسے نظارے گذرے ہوں گے کہ بعض باتوں کی اصلیت سمجھ میں نہ آئی ہوگی۔پس ایسے موقعوں پر روایت کی صحت پر زور دینے والے مورخ کو کوئی دقت پیش نہیں آتی۔وہ جو دیکھا یا سنتا ہے بلا کم و کاست وہی لکھ دیتا ہے۔لیکن دوسری قسم کے مورخ کو تو مصیبت کا سامنا ہوتا ہے۔روایت کی صحت و درستی جبکہ نہایت ضروری اور شاندار فن تاریخ کا سنگ بنیاد ہے۔تو اب دیکھنا یہ ہے کہ روایت کی صحت کس طرح حاصل ہو۔زیادہ قیمتی بیان اس میں راوی کا سمجھا جاتا ہے جو کسی واقعہ کا چشم دید حال بیان کرے اور ظاہر ہے کہ وہ شخص جس پر خود واقعہ گذرا ہے اور بھی زیادہ روایت اپنے متعلق بیان کر سکتا ہے۔پس تاریخ کی وہ کتابیں جو عظیم الشان اور مسلّمہ راست گفتار انسانوں نے اپنے اوپر گذرے ہوئے حالات میں لکھی یا لکھوائی ہیں۔تاریخ کی بہترین کتابیں کسی جاسکتی ہیں۔اس