مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 25 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 25

۲۵ تمہید کے بعد اب اصل مقصد کی طرف متوجہ ہو تا ہوں۔گزارش احوال مسلمانوں میں انگریزی تعلیم یافتہ لوگوں کی کمی نہیں۔سینکڑوں ہزاروں بی۔اے ایم۔اے ، جس حصہ ملک میں چاہو، موجود ہیں۔سرسید احمد خاں وغیرہ کے طرز پر چلنے والے لوگ اور قومی مرثیے پڑھنے والے جنٹلمین بھی یہ افراط پائے جاتے ہیں۔مسجدوں میں وعظ کہنے والے پرانی وضع کے مولوی اور مزاروں پر حال قال والے صوفی بھی ضرورت سے زیادہ موجود پائے جاتے ہیں۔دھواں دھار تقریریں کرنے والے لیکچرار اور دلوں کو بے تاب کر دینے والے جادو نگار بھی کم و بیش دیکھے سے جاتے ہیں۔تلوار و خنجر اٹھانے والوں نے باٹ ترازو بھی سنبھال لئے۔ہل چلانے اور بیل کی دم پکڑنے والے کتابوں کے مصنف بن گئے۔کرنی بسولی والے نقشہ کشی سیکھ کر معمار سے انجینئر اور بعض دوا بیچنے یا سر مونڈنے والے ڈاکٹر ہو گئے۔اس سے بھی گذر کر بعض ریزہ اقوام نے اپنے آپ کو اعلیٰ قوموں میں شامل ٹھہرایا۔وغیرہ وغیرہ - چشم ظاہر بین میں مسلمانوں کی یہ حالت روبہ ترقی نظر آسکتی ہے۔لیکن جو دل دانا اور چشم بینا ر کھتے ہیں جانتے ہیں کہ اس کا نام اسلامی ترقی نہیں۔سرسید کی لائف میں خواجہ حالی نے ادعا کیا ہے کہ یہ لائف مسلمانوں کے لئے نمونہ نہیں ہونی چاہئے۔لیکن جاننے والے جانتے اور ارباب دانش پہنچانتے ہیں کہ قرآن کریم کو موم کی ناک بنانے اور موجود فلسفہ اور زمانہ حال کی مادی ترقیات سے مرعوب ہو کر ”چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی " کہنے والے لوگوں نے کہاں تک اسلام کی حقیقت کو سمجھا اور خد اتعالیٰ کی کتاب کو مشعل راہ بنایا ہے۔ہاں ! یہ سچ ہے کہ سرسید نے شریعت کی حقیقت سے کوسوں دور اور رسم و رواج کی کثیف دلدلوں میں پھنسے ہوئے نور ایمانی سے مجبور جبہ پوشوں کی مخالفتوں پر کان نہیں دھرا اور سرسری نظر میں اس طرح وہ بڑے دلیر اور جری نظر آتے ہیں لیکن ان کی یہ تمام دلیری اور جرأت فلسفہ جدیدہ اور یورپی ترقیات کی پشت گری کی بدولت ہے نہ