مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 23 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 23

۲۳ معلوم ہوا کہ کسی قوم کو تنزل سے ترقی کی طرف لے جانے کی ایک یہ بھی اعلیٰ درجہ کی تدبیر ہے کہ ان کے بزرگوں کے حالات بار بار یاد دلائے جائیں یعنی قومی تاریخ کی خوب اشاعت کی جائے۔تاریخ کا وہ حصہ جس میں خاص خاص شخصوں کی زندگی کے قابل تذکرہ نتیجہ خیز حالات ذکر کئے جائیں عام تاریخ سے زیادہ مفید اور نتیجہ خیز ہوتا ہے کیونکہ پڑھنے والے کو واقعات سے نتائج اخذ کرنے میں بڑی آسانی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل کی مجموعی تاریخ سے بڑھ کر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے حالات دل پر اثر کرتے ہیں۔آج کل تاریخ نویسی میں اس بات پر زیادہ زور نظر آتا ہے کہ مورخین اصول درایت کو زیادہ کام میں لاکر خود ہی نتائج اخذ کر کے ناظرین کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔اس میں یہ نقص ہے کہ پڑھنے والے کو اپنے دماغ سے زیادہ کام لینے کی ضرورت نہیں رہتی اور بڑی آسانی سے انسان مؤرخ کا مقلد بن جاتا ہے۔اس تقلید کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تاریخ کے بہت سے مفید اور بابرکت نتائج جو مختلف مستعد دماغوں سے بر آمد ہوتے ، تاریکی اور پوشیدگی ہی میں رہ جاتے ہیں۔مسلمانوں کے فن تاریخ میں یہ خوبی ہے کہ انہوں نے روایت کی صحت پر بڑا زور دیا ہے جس کے لئے رواۃ احادیث و آثار کے اخلاق پر حیرت انگیز تنقید اور فن اسماء الرجال کی ضخیم و جسیم کتابیں شاہد ہیں۔اس طرح اصل واقعہ اور پوری کیفیت تو ہمارے سامنے پیش ہو جاتی ہے۔پھر اس سے اپنی اپنی استعداد اور قابلیت کے موافق قلوب پر اثر ہوتا ہے اور یہی فطرت کا تقاضا ہے۔مثال کے طور پر یوں سمجھنا چاہئے۔کہ کسی ورکشاپ میں لوہار نجار، معمار سنار و غیر مختلف کاریگر اپنی اعلیٰ درجہ کی قابلیتوں اور کاریگریوں کو کام میں لا رہے ہیں۔ایک لوہار جب اس کارخانہ میں سیر کرتا ہو ا جائے گا تو اس مقام پر زیادہ دیر ٹھہرے گا جہاں لوہار اپنا کام کر رہے ہیں۔اسی طرح نجار نجاروں کا تماشا زیادہ غور سے دیکھے گا اور اپنے پیشہ کے متعلق کوئی قیمتی بات بھی حاصل کر سکے گا۔لیکن اگر اس کارخانہ میں سیر کے لئے جانے والے ہر شخص کو مہتمم کارخانہ سنار کی کاریگریوں یعنی زیوروں کا معائنہ