مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 225
۲۲۵ اس کے دوست بنے ہوئے ہو تو پھر اس کو مقدمہ میں کیوں پھنساتے ہو ؟ کہنے لگا کہ میں تو اس مقدمہ کے ثابت کرنے ہی کے لئے اس کے پاس رہتا ہوں۔میں نے کہا کہ پھر تو تم منافق ہو۔میں ایسے شخص کا روادار نہیں۔۲۷ مئی ۱۹۰۹ء) ایک شخص نے ایک مرتبہ میری بڑی خاطر مدارات کی اور مجھ سے کہا کہ میرے پاس نہایت اعلیٰ درجہ کی خوش رفتار ایک اونٹنی ہے۔آپ اس پر سوار ہو کر سیر کو جائیں۔ایک ملازم جو اس اونٹنی پر نوکر تھا وہ بھی میرے ساتھ بیٹھا کہ سیر کرا کر لائے۔میں نے راستہ میں اس سے پوچھا کہ تمہارا آقا کیسا آدمی ہے؟ اس نے ایک نہایت غلیظ گالی اس کو دی اور کہا کہ اگر یہ رات کو یا شام کو مکان سے باہر نکلے تو ہم فور امار ڈالیں۔(۱۶) فروری ۱۹۱۲ء) چند قومیں ہیں جن پر مجھ کو کبھی اعتبار نہیں آیا۔ایک دہریہ دوسرے رافضی ، تیسرے عیسائی۔چوتھے جو حقیقتاً منافق ہیں اور ان کو منافقوں کے علامات سے پہچان سکتے ہیں۔دہریہ جب خدا تعالیٰ ہی کا قائل نہیں تو اس کی قسم کا کیا اعتبار - رافضی تقیہ کی آڑ میں سب کچھ کر سکتے ہیں۔عیسائی کفارہ پر اعتماد رکھتے ہیں۔منافق کا اعتبار تو ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ظاہر و باطن یکساں نہیں۔(۹) نومبر ۱۹۱۲ء) میرا ایک آشنا تھا۔اس نے میری ضیافت کی۔مجھے کو اپنا بڑا باغ دکھایا۔اس میں ایک درخت آم کا بتا کر کہا کہ سارا باغ تو خدا کا ہے۔آپ کے ساتھ والے جہاں سے اور جس قدر چاہیں کھائیں مگر یہ ایک درخت سید عبد القادر جیلانی کا ہے اس کو ہاتھ نہ لگائیں۔میں