مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 226 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 226

۲۲۶ نے کہا سید عبد القادر جیلانی تو خدا تعالیٰ کے عاشق تھے وہ بھلا کیسے گوارا کریں گے کہ خدا تعالیٰ کا نام اس پر نہ ہو۔اور ان کا نام ہو۔اس نے کہا کہ نہیں صاحب! اس درخت پر خدا کا تو آپ ذکر ہی نہ کریں۔چند روز کے بعد دریا کا ایسا سیلاب آیا کہ اس باغ کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔میں نے اس سے کہا کہ وہ تو سب کا سب خدا تعالیٰ ہی لے گیا۔چپ ہو گیا اور کچھ جواب نہ دیا۔وطن یعنی بھیرہ وغیرہ (۸) فروری ۱۹۱۰ء) بھیرہ میں جب میری مخالفت لوگوں نے کی تو دروازوں پر لوگ بیٹھتے تھے اور میرے پاس آنے والوں کو روکتے تھے اور یہی میری شہرت کا باعث ہوا۔(۷ار مئی ۱۹۰۹ ء بعد نماز ظهر) بھیرہ میں دو آدمی آپس میں بڑے دوست تھے۔ایک مر گیا۔اس کے وارث موجود تھے۔دوسرا خود موجود تھا۔ان میں آپس میں نزاع ہوا۔ایک نے مجھ کو لکھا کہ حاکم سے (جو ہندو تھا) میری سفارش کر دو۔میں نے ان کو جواب میں بہت نصیحت لکھی اور یہ آیت لکھی اَلَمْ تَرَ إلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ أمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ إِنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَ قَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِه وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلُّهُمْ ضَلَا لَا بَعِيدًا۔میرا وہ خط کہیں فریق مخالف کے ہاتھ آگیا۔اس نے اس حاکم سے (جو کھتری یعنی ہندو تھا) میری چغلی کھائی کہ آپ کو نور الدین نے طاغوت لکھا ہے۔اس نے کہا کہ سچ لکھا ہے۔تم یہ بتاؤ کہ کیا تمہارے عقیدہ میں ہم ایسے نہیں۔چغل خور لاجواب رہ گیا۔