مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 224 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 224

۳۲۴ (۲۸) اکتوبر ۱۹۱۲ء) ایک علمی مجلس میں ایک شخص نے ایک ریزولیوشن پیش کیا اور ایسے پُر درد لب ولہجہ سے تقریر کی کہ وہ تقریر کرتے ہوئے خود رو بھی پڑا مگر کسی نے اس کی بات کی تائید نہ کی۔میں نے چونکہ پہلے کبھی ایسا واقعہ دیکھا نہ تھا۔مجھ کو اس پر رحم آیا اور میں نے کھڑے ہو کر کہہ دیا کہ میں اس کی بات کی تائید کرتا ہوں۔مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ سن کر ہنس پڑے اور سب نے سرینچے کرلئے۔اب مجھ کو اور بھی زیادہ تعجب ہوا۔پھر اس شخص نے میز پر سکے بھی مارے اور خوب زور شور سے تقریر کرتا رہا۔لیکن تمام مجلس خاموش تھی۔آخر کسی عقل مند نے مجلس برخاست کر دی۔جب اٹھ کر چلے تو میں حیران تھا کہ تمام اہل مجلس نے کیوں ایسی سرد مہری دکھائی۔دروازہ کے قریب پہنچ کر وہی لیکچرار دھڑام سے گر پڑا اور اس وقت مجھ کو معلوم ہوا کہ وہ شراب کے نشے میں چور تھا۔آج کل واعظ عام طور پر خود عملی حالت میں کمزور اور دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں۔(۲) جون ۱۹۰۹ء) میں جموں میں تھا۔ایک ہندو عورت میرے ساتھ بڑا اخلاص رکھتی تھی۔میرے دو لڑکے تھے ایک فضل الہی دوسرا حفیظ الرحمان۔ان دونوں) کا انتقال ہو گیا۔اس ہندنی نے مجھے سے کہا کہ میں دولڑکے آپ کے واسطے خرید کر لاؤں گی جو ایسے ایسے ہونگے۔میں نے اس سے کہا کہ نادان ! وہ لڑکے ہمارے کیسے ہو سکتے ہیں اور اس طرح کہاں تلافی ہو سکتی ہے ؟ (۴) جون ۱۹۰۹ء) میرا ایک بڑا بھاری دشمن تھا، ایک شخص جو اکثر اس کے پاس رہتا تھا، میرے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کو تحصیل دار تک پہنچا دو۔میں تمہارے اس دشمن پر قتل کا جرم ثابت کئے دیتا ہوں۔میں نے اپنے آدمی سے کہا کہ اس کو نکال دو۔اس نے کہا کیوں؟ میں نے کہا تم جب