مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 196
194 جاتا ہوں۔(۸) جون ۱۹۰۹ ء بعد نماز عصر قبل درس در مسجد مبارک) میری ماں کو قرآن کریم پڑھانے کا بڑا ہی اتفاق ہو تا تھا۔انہوں نے تیرہ برس کی عمر سے قرآن شریف پڑھانا شروع کیا تھا۔چنانچہ یہ ان کا اثر ہے کہ ہم سب بھائیوں کو قرآن شریف سے بہت ہی شوق رہا ہے۔مئی ۱۹۰۹ء) میرے والد صاحب کو بھینس رکھنے کا بڑا شوق تھا۔انہوں نے اس کے چرانے والے کو تاکید کر دی تھی کہ ہماری بھینس کا دودھ نہ دوہا کر۔ہم تجھ کو اجرت زیادہ دے دیں گے۔لیکن وہ ایک دن دودھ دوہتا ہوا دیکھا گیا۔تب کہنے لگا۔حضور! میرا بیٹا مر گیا ہے آج اس کی جمعرات ہے میں نے بہت سوچا۔پھر یقین ہو گیا۔آپ کی بھینس طیب حلال ہے اسی کا دودھ اس کی فاتحہ میں دوں۔۲۷ اکتوبر ۱۹۰۸ء بروز عید بعد نماز ظہر جبکہ سب لوگ چلے گئے۔مسجد مبارک میں اس عاجز (احقر اکبر) کو جو خدمت میں حاضر تھا۔مخاطب کر کے فرمایا :- ایک دن ہم اپنے گھر بھیرہ میں تھے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ روم و روس میں لڑائی ہو رہی تھی اور ہندوستان میں روز خبریں مشہور ہوا کرتی تھیں۔رات کا وقت تھا۔ہمارے گھر میں ہم سات بھائی اور دو بہنیں اور دونوں ماں باپ تھے۔پھر ہر ایک بھائی کی غالبا پانچ پانچ چھ چھ اولاد تھی۔سوائے میرے سب کی شادیاں ہو چکی تھیں۔گھر خوب بھر رہا تھا۔میں نے اپنی ماں سے کہا کہ روز خبریں آرہی ہیں کہ آج اس قدر آدمی مارے گئے۔آج اس قدر مارے گئے۔