مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 195
۱۹۵ کو کھلاتے اور بہلاتے ہوئے اکثر یہ کہا کرتی تھیں۔انت الھادی۔انت الحق۔ليس الهادى الاهو (۴) اگست ۱۹۰۸ء) اللہ تعالیٰ میرے باپ پر رحم فرمائے۔انہوں نے مجھ کو اس وقت جبکہ میں تحصیل علم کے لئے پر دیس کو جانے لگا۔فرمایا اتنی دور جا کر پڑھو کہ ہم میں سے کسی کے مرنے جینے سے ذرا بھی تعلق نہ رہے اور تم اس بات کی اپنی والدہ کو خبر نہ کرنا۔(۸) فروری ۱۹۱۰ء) میں اپنے ماں باپ کے لئے دعا مانگنے سے تھکتا نہیں۔میں نے اب تک کوئی جنازہ ایسا نہیں پڑھا جس میں ان کے لئے دعانہ مانگی ہو۔خدا تعالیٰ رحم کرنے میری والدہ پر۔انہوں نے اپنی زبان میں عجیب عجیب طرح کے نکات قرآن مجھ کو بتائے۔منجملہ ان کے ایک یہ بات تھی کہ تم اللہ تعالیٰ کی جس قسم کی فرماں برداری کرو گے اس قسم کے انعامات پاؤ گے اور جس قسم کی نافرمانی کرو گے اسی قسم کی سزا پاؤ گے۔۔از مکافات عمل غافل مشو گندم از گندم بروید جو ز جو هل جزاء الإحسان إلا الإحسان۔از مذاہب مذہب دہقاں قوی اے مولوی مذہب دہقاں چہ باشد هرچه کشتی بد روی وہ اکثر فرمایا کرتی تھیں۔” جو آگ کھائے گا انگارے لگے گا" (۹) اپریل ۱۹۱۲ء) میں نے اپنے ماں اور باپ کو تر شرو کبھی نہیں دیکھا حالانکہ میں عبدالحی پر کبھی خفا بھی ہو