مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 197
194 آخر وہ مارے جانے والے کسی کے بیٹے اور بھائی ضرور ہوتے ہوں گے۔دیکھو ہمارے گھر میں تو ہر طرح امن و امان ہے اور کوئی فکر نہیں۔بس آپ اپنی اولاد میں سے ایک بیٹے کو یعنی مجھ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کردیجئے۔میری شادی بھی نہیں ہوئی۔نہ بیوی ہے نہ بچے۔یہ سن کر میری ماں نے کہا کہ میرے سامنے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔غرض میں خاموش ہو رہا۔اب سنو ! تھوڑے ہی دنوں کے بعد ہمارے بھائی مرنے شروع ہوئے۔جو مرتا۔اس کی بیوی جو اس کے ہاتھ آتا لے کر گھر سے نکل جاتی۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ باقی بھائی قبضہ کرلیں گے اور اسباب میرے قبضہ میں نہ رہے گا۔رفتہ رفتہ سب مرگئے اور سارا گھر خالی ہو گیا جبکہ میرا تعلق ریاست جموں سے تھا۔میں ایک دفعہ گرمیوں کے موسم پر اپنے مکان پر آیا۔وہاں میں اس جگہ جو ہمارے مشترکہ خزانہ کی کوٹھڑی گھر کی عام نشست گاہ کے قریب تھی۔دوپہر کے وقت سو رہا تھا۔میری والدہ قریب کے کمرہ میں آئیں۔انہوں نے اس قدر زور سے انا لله وانا اليه راجعون پڑھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔میں نے ان سے کہا کہ صبر کے کلمہ کو تو اس قدر بے صبری کے ساتھ نہیں کہنا چاہئے۔پھر میں نے ان سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ تمام گھر اب ویران اور خالی کیوں پڑا ہے ؟ کہا کہ ہاں مجھ کو وہ تیری اس روز رات کی بات خوب یاد ہے۔اسی کا یہ اثر ہے اور مجھ کو ہر ایک بیٹے کی موت کے وقت وہ بات یاد آتی رہی ہے۔پھر میں نے کہا اور بھی کچھ سمجھ میں آیا ؟ کہا کہ ہاں میں جانتی ہوں کہ میرا دم تیرے سامنے نہ نکلے گا۔بلکہ میں اس وقت مروں گی جبکہ تو یہاں نہ ہو گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور قاضی امیر حسین نے جو اس وقت موجود تھے کفن دفن کا کام انجام دیا۔میں اس وقت جموں میں تھا۔اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے چاہا تھا کہ نو ر الدین کفن دفن میں شریک ہو۔اور ہم اس کے سامنے فوت ہوں گے۔(۵) جنوری ۱۹۰۷ ء در مطب) میں سفر میں جانے لگا تو ایک بزرگ کی بات یاد آئی جس نے کہا کہ جس شہر میں جاؤ وہاں