مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 176
144 آپ کا ادنی نو کر ہے۔مجھ سے جب پوچھا گیا کہ تم دربار میں پنڈت ہر نام داس کی تواضع زیادہ کیوں کرتے ہو ؟ تو میں نے کہا کہ وہ میرے استاد ہیں۔اس میری گفتگو نے رئیس کے دل پر بہت ہی بڑا اثر کیا اور مجھے کو بڑی عظمت سے دیکھنے لگا۔ان دنوں میں میرے مولا نے جو میری نخوت کا علاج کیا وہ بھی عجیب ہے کہ میاں لعل دین کا بیٹا فیروز الدین جو مجھ سے دلی تعلق اور اخلاص اور گہری محبت رکھتا تھا وہ عالم شباب میں مبتلاء چیچک ہوا اور مرگیا۔میرے سامنے ہی اس نے جان دی۔اس صدمہ سے اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے کہ مجھ پر کیا کیا گزری۔اور مجھ کو یہ واقعہ اب تک بھی تکلیف دیتا ہے کہ کوئی تدبیر وہاں کام نہ دے سکی۔بہت ہی ٹکریں ماریں مگر نا کامی رہی۔یہ سب خد اتعالیٰ کے فضل کی باتیں ہیں۔میں نے شیخ فتح محمد اور ان کے تمام کنبہ والوں اور ان کے بھائی شیخ امام الدین کو خلوص و محبت کا نہایت ہی پاک نمونہ پایا۔شیخ علی محمد تاجر و زیر آباد مقیم جموں کو بھی مجھ سے بڑی محبت تھی راجہ عطا محمد خاں رئیس یا ڈی پورہ اور راجہ فیروز الدین خان اور راجہ قطب الدین خاص ذکر کے قابل ہیں اور ان میں طبی تذکرے بھی موجب ذکر ہیں مگر بات لمبی ہوتی جاتی ہے۔صرف اتنا بتائے دیتا ہوں کہ ان میں سے ایک شخص جو خطرناک ضعف باہ میں گرفتار تھا۔اس نے مجھ سے کہا کہ کوئی خاص طور کی دوائی آپ مجھے دیں۔میں نے اس کو نسخہ زرجام عشق بنا کر دیا۔جس کے استعمال کے بعد اس نے میری اور میری بیوی کی دعوت اپنے گھر میں کی اور اس کی بیوی نے میری بیوی کے ہاتھ میں سونے کے بڑے بڑے کنگن بہت محبت سے ڈال دیئے اور خود اس شخص نے قیمتی گھوڑے باصرار دیئے۔ایک شخص بڑے عملیات کے مدعی تھے اور وہ اپنے آپ کو شاہ عبد الغنی صاحب کا مرید بھی ظاہر کرتے تھے۔انہوں نے عملیات پر کتاب بھی لکھی تھی۔میں نے شاہ صاحب کے تعلقات کی بنا پر ان کو ایک خط لکھا۔جس پر انہوں نے مجھ کو ایک عمل لکھ کر بھیجا کہ اس سے پانچ روپیه روز آدمی کما سکتا ہے۔چونکہ وہ شاہ صاحب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے