مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 177 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 177

166 تھے اس لئے میں نے اس عمل کا تجربہ کیا۔میں طب کا پیشہ بھی کرتا تھا۔تھوڑے دنوں کے بعد مجھ کو یہ خیال ہوا کہ یہ جو مجھ کو آمدنی ہوتی ہے آیا اس عمل کا نتیجہ ہے یا طب کا؟ ان دونوں میں تشخیص کرنے کے لئے یا تو عمل چھوڑ دیا جائے یا طب۔سو میں نے طب کو چھوڑنا پسند نہ کیا۔عمل کو چھوڑ دیا۔اس مہینہ میں مجھ کو بارہ سو روپیہ کی آمدنی ہوئی۔اس لئے مجھ کو رنج ہوا کہ اس عمل کی نحوست سے بارہ سو کی بجائے ڈیڑھ سو ہی ملتا تھا۔جب میں جموں گیا تو ایک روز علی الصباح وہ عامل صاحب میرے مکان پر پہنچے۔میرے دل میں خیال گزرا کہ شاید یہ اپنے دل میں خیال کرتے ہوں گے کہ یہ میرے عمل کے سبب یہاں نو کر ہے اس لئے میں نے اپنے نفس پر بہت ہی جبر کر کے اپنی عادت کے خلاف انکی طرف مطلق توجہ نہیں کی۔چاء اور کھانا وغیرہ تو بڑی بات ہے۔میں نے انکی طرف دیکھا بھی نہیں۔آخر دس بج گئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ نے مجھے پہچانا نہیں ؟ میں نے کہا کہ نہیں، میں آپ کو پہچانتا ہوں۔آپ فلاں کتاب کے مصنف ہیں۔اس سے زیادہ میں نے اور کوئی تعارف ظاہر نہ کیا۔وہ میرے اس روکھے پن سے بہت ہی متعجب ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کہیں تو میں میاں لعل دین کے مکان پر جا ٹھہروں۔میں نے کہا۔ہاں آپ شوق سے جائیں۔چنانچہ وہ اٹھ کر میاں صاحب کے یہاں پہنچے۔تھوڑی دیر کے بعد میاں صاحب کا ایک خاص خدمت گار میرے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ ابھی میاں صاحب کے مکان پر ایک عامل آیا ہے جس نے ایک تعویذ لکھ کر آگ میں ڈالا اور وہ اشرفی بن گیا۔وہاں اس عامل کی بڑی خاطر مدارات ہو رہی ہے۔پلاؤ اور زردے پک رہے ہیں۔دو ایک روز کے بعد وہ عامل پھر میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ آپ اگر میرے لئے کوشش کریں تو یہاں دعاگویوں کی ایک مد ہے۔ساٹھ روپیہ تنخواہ ہوتی ہے۔مجھے اس میں ملازم کرا دیں۔یہ سن کر مجھ کو اور بھی شبہ ہوا کہ مجھ کو تو انہوں نے ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار کا عمل بتایا اور خود ساٹھ روپیہ ماہوار کے لئے سفارش چاہتے ہیں۔میں نے کہا اس قسم کی نوکریاں میاں صاحب اور حافظ حکیم فدا محمد صاحب کی معرفت مل سکتی ہیں۔میری نسبت اس رئیس کا خیال ہے کہ یہ شخص اس قسم کے