مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 175 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 175

14A وہ کے درمیان فیصلہ کن ہوگی، منگوائی جائے۔چنانچہ دیوان امرنا تھ صاحب کے کتب خانہ سے وہ کتاب منگوائی گئی اور کتب خانہ کے متعلق جو کچھ کہ اس مصنف کا خیال تھا۔گور نر صاحب کے سامنے پیش کیا۔انہوں نے کیسا تعجب کے قابل جواب دیا کہ چونکہ ہم کو ابتداء سے ہی تعلیم دی جاتی ہے کہ اسلام کا مذہب بہت برا ہے اس واسطے جو اعتراض اس پر کیا جائے ہم کو ہ عظیم الشان ہی معلوم ہوتا ہے۔تب میں نے راجہ صاحب سے کہا کہ آپ کی مسلمان رعایا پنڈت جی سے کیا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔جبکہ یہ اسلام کے ایسے خیر خواہ ہیں (کشمیریوں کے محاورہ میں خیر خواہ بد خواہ کو کہتے ہیں گورنر صاحب نے کہا کہ میں ہندو نہیں بلکہ بدھ ہوں کیونکہ میں لداخ کا گورنر رہا ہوں۔وہاں بدھوں کی تعلیم مجھ کو بہت پیاری معلوم ہوئی۔مجھے کو ایک طمع بھی تھی۔موقع بھی تھا اور بات بھی بن گئی۔میں نے کہا کہ آپ کے محکمہ میں فتح محمد اور فتح چند دو امیدوار ہوں اور لیاقت میں بھی فتح محمد دو سرے سے بڑھا ہوا ہو تو آپ کس کو جگہ دیں گے۔انہوں جواب دیا کہ ہم فتح چند کو جگہ دیں گے گو وہ لیاقت میں کم ہی ہو۔میں نے کہا آپ کی بات تو متضاد ہو گئی کیونکہ فتح چند بدھ نہیں ہے۔گور نر صاحب نے کہا کہ مجھے پر اپنے باپ کی تعلیم کا یہ اثر ہے۔اس پر میں نے راجہ صاحب سے کہا کہ آپ توجہ کریں کہ کیا حال آپکی مسلمان رعایا کا ہو سکتا ہے۔اس طرح کے بہت سے نظارے وہاں دیکھنے میں آئے۔اللہ تعالیٰ سے رحم کا امیدوار ہوں۔جب راجہ پونچھ کو قلعہ باہو میں ڈوسنطا ریا نے آدبایا تھا وہاں سبوس اسبغول انجبار اور شیرہ بکن نے مجھے تحریک دی کہ میں ہندی طب پڑھوں۔کیونکہ بکن کی نسبت صرف ہندی طب راہ نما ہوئی تھی۔اس کام کے لئے پنڈت ہر نام داس بوڑھے پنڈت انتخاب کئے اور ان سے امرت ساگر اور سرت سبقاً پڑھا اور طب جدید کی بہت سی مصری کتابیں منگوا کر مطالعہ کیں۔پنڈت صاحب کی میں ایسی خدمت کرتا تھا کہ بعض وقت ان کے لئے حقہ کی عمدہ قسم کی نلیاں کشمیر سے منگواتا تھا اور وہ بھی مجھ کو بچوں سے کم عزیز نہ سمجھتے تھے۔اس میرے پڑھنے کی خبر مہاراج جموں کو کی گئی کہ یہ شخص ابھی پنڈت ہر نام داس سے طب پڑھتا ہے جو