مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 174 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 174

مسلمان قرآن سنایا۔ایک شخص جس کا نام رتی رام تھا اور وہ خزانہ کا افسر تھا اور افسر خزانہ کا بیٹا بھی تھا۔اس نے عام مجلس میں کہا کہ دیکھو ان کو قرآن شریف سنانے سے رو کو درنہ میں ہو جاؤں گا۔قرآن شریف بڑی دلر با کتاب ہے اور اس کا مقابلہ ہرگز نہیں ہو سکتا اور نور الدین کے سنانے کا انداز بھی بہت ہی دلفریب اور دلربا ہے۔وہاں کے وزراء میں سے دیوان گوبند سمائے ، دیوان اننت رام اور دیوان کرپا رام دنیوی اخلاق کی رو سے بہت ہی بے نظیر آدمی تھے۔وسعت خیالات کے ساتھ عام مروّت کا مادہ بھی ان لوگوں میں تھا۔دیوان لچھمن داس اور سردار روپ سنگھ - سردار لال من۔سردار موتی رام ایسے اشخاص ہیں جن کو میرے طبی مشوروں کے علاوہ مجھ سے خاص طور پر خطر ناک معرکوں میں سلوک کرنے کا موقع ملا ہے۔میں ان کا ہمیشہ شکر گذار ہوں گا۔ایک دفعہ وہاں کے گورنر پنڈت رادھا کشن صاحب نے راجہ امر سنگھ کے مکان پر مجھے سے کہا کہ لیکھرام کے بعض اعتراضات جو اسلام پر کئے گئے ہیں بالکل لاجواب ہیں۔مسلمان ان کا جواب نہیں دے سکتے۔میں نے کہا بات تو بڑی سہل ہے۔آپ ان اعتراضوں میں سے اعلیٰ درجہ کا اعتراض میرے سامنے اس وقت پیش کریں اور راجہ صاحب کو ہم جج بنائیں گے۔تب انہوں نے اسکندریہ کے کتب خانہ کے متعلق یہ اعتراض کیا کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم سے جلایا گیا۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کے نزدیک دنیا میں کوئی صحیح تاریخ ہے ؟ جس میں اسلامی پہلی صدی یا دوسری یا تیسری اور چوتھی صدی کے درمیان اس قصہ کو کسی مورخ نے بیان کیا ہے آپ اس کا نام لیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے عربی تاریخیں نہیں پڑھیں۔میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں نے انگریزی تاریخیں نہیں پڑھیں۔مگر خیر اب آپ کسی انگریزی تاریخ کا نام لیں جو نسبتاً قابل اعتماد ہو۔تب انہوں نے گین کی تاریخ ڈکلائن اینڈ فال آف دی رومن امپائر Decline and fall of the Roman Empire By Gibbon۔یعنی ( تاریخ زوال سطنت روما) کا ذکر کیا۔میں نے کہا بس یہی ایک کتاب ہمارے اور آپ