مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 152
۱۵۲ میں پہنچے۔وہاں کے آفیسر اور منشی اور اہلکار بہت سے لوگ ہمارے ملنے کو آئے۔ملک صاحب نے دیکھا کہ یہاں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی تو مجھ سے کہا کہ مجھ کو خوشاب جانا ہے۔چھاؤنی میں ہم دن بھر رہے ، رات کو بھی رہے پھر دوسرے دن بھی رہے۔بمشکل ہم وہاں سے سوار ہوئے خوشاب چار کوس تھا۔جب دریا کے پار کنارے پر اترے تو وہاں کے نائب تحصیل دار صاحب شیخ فضل کریم اور وہاں کے بہت سے عمائد اور احباب ہماری ملاقات کو آئے۔ملک صاحب نے جب یہ امن دیکھا تو مجھ سے فرمایا کہ مجھے کو تو سکیسر جانا ہے۔خوشاب میں بھی دو تین روز لگے۔وہاں سے جب سوار ہوا تو گل حسین شاہ ایک سید نے دودھ کا بھرا ہوا ایک کٹورا پیش کیا۔دودھ ان دنوں مجھ کو ہضم نہ ہو تا تھا۔میں نے عذر کیا۔انہوں نے بہت افسوس سے کہا کہ اگر کسی شخص کو دودھ ہضم نہ ہو تا ہو اور وہ آپ کے پاس علاج کو آئے تو آپ کیا کریں گے ؟ اس بات کے سننے سے واقعی مجھ کو بھی اپنی حالت پر افسوس آیا اور وہ کٹورا ان کے ہاتھ سے لیکر گھوڑی پر چڑھے ہوئے ہی سارا پی گیا۔مگر میں یقین کرتا تھا کہ اب یہ ہضم نہ ہو گا۔اس لئے میں جلدی ہی ان سے رخصت ہو کر چل دیا۔سکیسر کے راستہ میں ایک پل آتا ہے جس کے نیچے پانی بہتا ہے۔وہاں پہنچ کر مجھ کو گونہ تکلیف محسوس ہوئی۔میں اتر پڑا اور ایک بہت بڑی صفراوی اجابت ہوئی اور طبیعت بالکل صاف ہو گئی۔سکیسر پہنچے۔قاضی علی احمد صاحب ( جو سو درہ کے باشندے تھے اور بنی اسرائیل کہلاتے تھے) سررشتہ دار نے ایک آدمی بھیجا کہ آپ کو جو ضرورت ہو حکم کر بھیجیں۔میں خود اس لئے حاضر نہیں ہوا کہ مقدمہ کے متعلق اشتباہ نہ ہو۔جب میں سرائے کے اندر گیا تو ایک عمدہ چار پائی پر نہایت عمدہ بستر بچھا ہوا تھا۔چار پائی خالی تھی اور ملک صاحب ایک چٹائی پر بیٹھے تھے۔انہوں نے مجھے چار پائی پر بٹھانا چاہا۔چونکہ وہ میرے مخلص اور عمر میں مجھ سے بڑے تھے۔میں نے کہا کہ یا تو آپ ہی چارپائی پر بیٹھیں یا ہم دونوں بیٹھیں۔انہوں نے کہا کہ نہیں آپ بیٹھ جائیں۔مصلحت اسی میں ہے۔خیر میں اس وقت تو انکی مصلحت کو نہیں سمجھا اور چارپائی پر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد ایک آدمی آیا۔جس کے چہرہ پر بڑا غضب تھا