مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 153 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 153

۱۵۳ مگر وہ ملک صاحب کو دیکھ کر ٹھنڈا ہو گیا۔اس ملک کے رواج کے موافق ملک صاحب کے گھٹنوں کو ہاتھ لگانے لگا تو ملک صاحب نے کہا کہ نہیں آپ ہمارے پیر صاحب کے قدم لیں۔چنانچہ میری طرف بڑھا اور مراسم تعظیم بجالایا۔تھوڑی دیر کے بعد ملک صاحب نے اس سے کہا کہ میاں سلطان علی کہاں ہیں؟ ( یہ میانوالی کے رئیس تھے ) اس نے کہا کہ میں ابھی جاتا ہوں اور ان کو اطلاع کرتا ہوں چنانچہ میاں سلطان علی صاحب آئے اور ملک صاحب نے ان سے بھی اسی طرح میری طرف جھکنے کو کہا اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ گویا میرا بیٹا ہے آپ اس کو کچھ وعظ کریں۔تھوڑی دیر کے بعد سلطان علی ہاتھ باندھ کر میرے سامنے کھڑے ہو گئے کہ کچھ مجھے ارشاد کرو۔چونکہ وہ مولوی عبد اللہ چکڑالوی کے مقدمہ میں آئے ہوئے تھے اور ان کا ارادہ کچھ عظیم الشان تھا میں نے کہا کہ آپ چلے جائیں بس یہی ارشاد ہے۔پیر ابو احمد صاحب کا احسان میں اور میری اولاد کبھی نہیں بھول سکتی۔یہ پیر ابو احمد صاحب شاہ رؤف احمد صاحب کے بیٹے تھے۔ملک صاحب کے ساتھ تو ہمارے تعلقات طبیبانہ بھی تھے مگر پیر صاحب کے ساتھ کوئی اس قسم کا تعلق نہ تھا یہ صرف ان کا احسان ہی احسان تھا والاجر من الله - پیر صاحب نے مجھ سے ایام طالب علمی میں بھی بڑے بڑے نیک سلوک کئے اور بہت بہت میری امدادطالب علمی میں کی تھی۔میں ان سب کے بدلہ میں ان کے لئے دعا کر تا ہوں۔بھیرہ بھیرہ میں ایک شخص میرے پاس آیا۔اور کہا کہ ایک مسجد ہے اس میں کنواں کوئی نہیں ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اس میں کنواں بن جائے۔وہ چونکہ ملا تھا۔اس لئے مجھ کو تعجب ہوا کہ یہ ملا ہو کر ایسی ہمت اور رفاہ عام کا کام کرتا ہے۔میں خود اس کے ہمراہ اس محلہ میں اٹھا ہوا چلا گیا۔میں نے اس محلہ والوں سے کہا کہ میں تم کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اس شخص کے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ ڈال دیا کہ یہ تمہارے محلہ میں کنواں بنوانا چاہتا ہے۔تم کنواں بنوالو۔