مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 151
ادا سب واپس کردو " تب مجھ کو اس زیو رو غیرہ کی حقیقت معلوم ہوئی۔میں ان کی نیکی وسعت حوصلہ شرافت اور خوبیوں کا کوئی اندازہ نہیں کر سکا اور اس وقت بھی نہیں کر سکتا۔دھمکی کے لحاظ سے وقت بڑا خطرناک تھا۔بہر حال وہ لڑکا خدا کے فضل سے اچھا ہو گیا۔اور جو سلوک میرے ساتھ پیر صاحب نے کیا وہ ایسا نہیں جس کا بدلہ میں اتار سکوں۔اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ ہی اتارے گا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پیر صاحب ان کی اولاد اور بیوی کو اپنی جناب سے بہت بہت اجر عطا فرمائے۔یہ قصہ اس قصہ کے لگ بھگ ہے جو رامپور میں ایک پٹھان کلن خاں نے عبد القادر خاں پر تلوار سونت لی تھی اور ذرا بھی عبد القادر خاں ٹھر تا تو کلن خاں مار ہی دیتا یا اس قصہ کے لگ بھگ ہے کہ بھیرہ میں ہمارے ساتھ عوام کا فساد تھا اس میں حفظ امن کے لئے طرفین کے عمائد لوگوں کے کچھ مچلکے اور ضمانتیں لئے جانے کا حکم ہوا۔میرے نام بھی وہ حکم پہنچا تھا اگر چہ میں کسی مقدمہ سے تعلق نہ رکھتا تھا۔سکیسر میں جانا تھا جو بھیرہ سے ساٹھ میل کے فاصلہ پر ہے۔مولوی صاحبان نے یہ تجویز کی کہ راستہ میں ایسے فتوے دیئے جائیں کہ ات کھانے پینے کی دقتیں پیش آئیں۔میں نے ایک تیز گھوڑی لی اور ارادہ کیا کہ اگر عصر کے وقت یہاں سے سوار ہوں تو صبح کے وقت سکیسر پہنچ سکتے ہیں۔ساٹھ کوس بڑی بات نہیں۔میں اس گھوڑی پر سوار ہو کر چل دیا۔چھ کوس کے فاصلہ پر چکرم داس ایک گاؤں ہے۔وہاں میں نے دیکھا کہ بہت سے گاؤں کے آدمی لٹھ لئے ہوئے سڑک پر کھڑے ہیں۔اس وقت مجھے کو یہ تمیز نہ ہوئی کہ یہ کون ہیں اور کس غرض سے کھڑے ہیں۔مگر جب میں بہت ہی قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ ملک فتح خاں صاحب مع اپنے ملازمین کے ہیں۔سلام علیک کے بعد میں نے پوچھا کہ آپ کیسے کھڑے ہیں۔فرمایا کہ میں نے سنا تھا کہ آپ کو چھاؤنی جانا ہے اور مجھے بھی چھاؤنی جانا ہے۔اس واسطے آپ کا منتظر تھا۔لیکن ہم لوگ آہستہ آہستہ چلیں گے۔صبح ہوتے چھاؤنی پہنچ جائیں گے۔غرضیکہ ایک گاؤں سے نکل کر دوسرے میں دو سرے سے نکل کر تیسرے میں اسی طرح رات بھر چل کر صبح ہوتے شاہ پور کی چھاؤنی