مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 144 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 144

۱۴۴۴ علی اللہ اپنے ایک طالب علم سے کہا کہ یہ سرمہ بناؤ - جست ہیں ماشہ سرمہ سیاہ ہیں ماشه زنگار تین ماشہ سفیده کاشغری چار ماشہ افیون تین ماشہ سمند رجھاگ چار ماشہ اور اسی طرح کا ایک اور سرمہ جس میں افیون نہ ہو۔میں نے عصر کے بعد وضو کرتے وقت ایک شخص کی آنکھ کو غور سے دیکھ کر پہلی قسم کا سرمہ لگا دیا۔اس کی دیکھا دیکھی ایک اور نے درخواست کی اس کے بھی لگا دیا۔یہ ہمارا پہلا اشتہار تھا۔صبح بہت سے لوگ آئے اور سرمہ ہی طلب کیا۔ہمارے شہر میں رطوبت کے زیادہ ہونے سے یہ بیماری بکثرت تھی۔بعض کو نزلی اور بعض کو معدی آشوب تھا اور بعض کو طبقات العین میں۔اس لئے اطریفل کشنیزی جس میں گل اسطو خودوس پڑتا ہے اس کی ہدایت کی۔بعض کے کان کے پیچھے یا ہڈی یا گردن پر پلاسٹر لگا دیا۔خدا تعالیٰ ہی کے عجائبات ہیں کہ اس تدبیر نے بڑی کامیابی کامنہ دکھلایا۔عجیب سفر بھیرہ میں جب میں علاج کرتا تھا تو ایک ایسے مکان میں بیٹھتا تھا جو ایک طبیب کے لئے نہایت ہی مناسب تھا اور اس میں بیٹھ کر عورت اور مرد دونوں کے حالات بے تکلف سن سکتا تھا۔میں اپنے والد صاحب کے ارشاد سے بیٹھتا اور علاج کر تا تھا۔مکان وہ بہت وسیع تھا۔والد صاحب کی وفات کے تھوڑے دنوں بعد میرے ایک بھائی صاحب نے جن کے مجھ پر بڑے بڑے احسانات ہیں۔( منجملہ ان احسانات کے یہ کہ انہوں نے مجھ کو پڑھایا، پرورش کیا شادی کی۔اور بھی بڑے بڑے احسان ہیں۔اور میں ہمیشہ ان کے لئے دعائیں کرتا ہوں) مجھ سے آکر فرمایا کہ یہ مکان میرے روپیہ سے لیا گیا اور میرے ہی روپیہ سے یہ درست کیا گیا۔تم اس قدر لکھ دو۔میں تو ان پر اپنے جان ومال سب کو قربان کرنے کے لئے تیار تھا۔میں نے نہایت انشراح قلب سے ان کے حسب منشا لکھ دیا اور اپنے طالب علموں سے کہا کہ یہاں سے دوائیں اٹھا کر فلاں مسجد کے حجرہ میں رکھ دو اور اسی وقت وہ مکان خالی کر دیا۔روپیہ اس وقت میرے پاس بالکل نہ تھا۔میں نے سمجھا کہ یہ میرے استاد بھی ہیں۔مربی بھی