مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 145 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 145

۱۴۵ ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ان کے دل میں ذرا بھی کدورت پیدا ہو۔ایک دو روز کے بعد میری والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس تحریر کا منشا یہ نہ تھا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ۔اس تحریر کا منشا کچھ اور ہی تھا جس کا اثر تم پر نہیں پڑ سکتا تھا۔کچھ انہوں نے کسی اصل بات کی طرف اشارہ بھی کرنا چاہا مگر میں تو مکان چھوڑ ہی چکا تھا۔وہاں ایک سرکاری زمین تھی جس کو کمیٹی کی زمین کہتے تھے۔میں نے اپنے ایک دوست مستری سے کہا کہ تم اس زمین پر مکان بناؤ اور ایک ہندو سے کہا کہ تم روپیہ دے دو۔مکان بننا شروع ہو گیا۔وہاں تحصیل دار (جن کا نام منصب دار خاں تھا اور جو راولپنڈی کے علاقہ کے رہنے والے تھے) نے میرے پاس کہلا بھیجوایا کہ اول تو کوئی مکان بلا اجازت اور بغیر نقشہ منظور کرائے بنانا جائز نہیں پھر یہ کہ سرکاری زمین میں مکان بنانا قانون کے خلاف ہے۔میں بسبب ادب کے کچھ نہیں کہہ سکتا۔مگر ہاں یہ بتائے دیتا ہوں کہ کمیٹی بھی اگر چہ بسبب ادب کے کچھ نہیں کہہ سکی لیکن انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ کر دی ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ یہ بنا بنا یا مکان گرا دیا جائے گا۔میرے دوست مستری نے بھی یہی کہا۔مگر چونکہ میرا دل انشراح صدر سے یہی کہتا تھا کہ مکان ضرور بنے گا۔اس لئے میں نے کہا کہ تم اپنا کام کئے جاؤ - صاحب ڈپٹی کمشنر نے کمیٹی والوں کی رپورٹ پر کہا کہ ہم بہت جلد وہاں آنے والے ہیں۔خود ہی آکر موقع کا ملاحظہ کریں گے۔چنانچہ وہ آئے اور بعد ملاحظہ فرمایا کہ جس قدر مکان بن چکا ہے وہ تو ابھی رہنے دو۔باقی تعمیر کا کام روک دو۔میں بھی اس وقت وہاں قریب کے مکان میں موجود تھا۔ڈپٹی کمشنر صاحب کے تشریف لانے کی خبر سن کر وہاں گیا تو ڈپٹی کمشنر صاحب وہاں سے چلے گئے تھے اور بہت سے قدم آگے نکل گئے تھے۔مجھ کو آتا دیکھ کر شائد ان کے ہمراہی لوگوں میں سے کسی نے کہا ہو گا کہ مکان بنوانے والا آ گیا ہے۔وہ پھر واپس آئے اور ان کو واپس ہوتے دیکھ کر میرے دل نے کہا کہ حکم لوٹ گیا۔جب وہ آگئے تو مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم جانتے ہو یہ سرکاری زمین ہے ؟ میں نے کہا کہ ہاں !مگر سارا شہر ہی سرکاری زمین ہے۔انہوں نے فرمایا کہ وہ کس طرح؟ میں نے کہا کہ اگر سرکار کو اس شہر کے مقام پر فوجی