مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 143
۱۴۳ کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ میرے اس شہر سے نکالنے میں شریک ہیں۔خیر یہ تو احسان کا بدلہ ہی ہو گا مگر اتنا آپ یاد رکھیں کہ جو لوگ میرے مرید اور معتقد ہیں وہ تو کم سے کم آپ کو کبھی سلام نہ کریں گے۔یہ کہہ کر میں چلا آیا اور جلد وہاں سے واپس ہو گیا۔دن کے آخر حصہ میں جب علماء اکٹھے ہو کر ان کے پاس گئے اور میرے اخراج کا فتویٰ پیش کیا تو پیر صاحب نے ہنس کر یہ فرمایا کہ فقر کا دروازہ بڑا ہی اونچا ہے۔ہندو سکھ مسلمان، عیسائی، وہابی سب فقر کے سلامی ہیں۔تب ان علماء نے عرض کیا کہ آپ نے کل فرمایا تھا کہ میں کل تدبیر بتادوں گا اور ہم سے خوب پکی بات آپ کی اس کام کے متعلق ہو چکی تھی۔پیر صاحب نے کہا کہ ہاں آپ رسول کی گدی کے مالک ہیں اور اس لئے آپ کی رعایت کرنی ضروری ہے۔لیکن فقر کا دروازہ بہت اونچا ہے اور فقر کے سب سلامی ہیں۔مولویوں نے بڑا ہی زور دیا۔مگر سلام کے لفظ کو پیر صاحب چھوڑ نہ سکے ، پھر ان کا آدمی میرے پاس پہنچا کہ پیر صاحب آپ کے مکان کے قریب سے گزریں گے۔جب وہ قریب آئیں تو آپ باہر نکل کر ان سے ملیں۔میں نے خیال رکھا۔جب مجھ کو معلوم ہوا کہ وہ قریب ہیں۔میں مکان سے نکل کر ان سے ملا۔وہ ایک گھوڑی پر سوار تھے۔مگر کوئی آدمی ان کے آگے پیچھے نہ تھا۔حالانکہ وہ بڑے ذی وجاہت آدمی تھے۔مجھ سے کہنے لگے کہ ”جو ان میں نے وہ کام کر دیا ہے۔یا ر ا اب اپنے مریدوں سے کہہ دینا کہ وہ ہم کو سلام کر لیا کریں" میں نے کہا کہ جب میں نے خود آپ کو سلام کیا ہے تو میرے مرید بھلا کیوں نہ کریں گے۔بھیرہ میں میں نے ایک طبیب سے مشورہ کیا کہ میں یہاں طب کرنا چاہتا ہوں تو اس نے کہا کہ تم یہاں کامیاب نہیں ہو سکتے۔کیونکہ میں مانگ لینے والا آدمی ہوں۔پھر بھی مجھے اس شہر میں پانچ روپیہ سے زیادہ آمدنی نہیں اور تم تو مانگو گے نہیں اور تمہاری حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ دوا کا مفت دینا تمہاری عادت میں داخل ہو گا۔ان سے میں کسی تقریب میں یہ بات بھی کہہ چکا تھا کہ معاجین، شربت اور فصد کا طریق مجھے لمبا نظر آتا ہے۔انہوں نے کہا یہاں عطار اور جراح مخالفت کریں گے۔علماء کی مخالفت اس کے علاوہ ہے۔میں نے تو کلا