مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 132 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 132

۱۳۲ بھیرہ واپسی میں میں دہلی اترا اور میرے ایک پرانے رفیق نے مجھ سے بیان کیا کہ تمہارے طبیب استاد یہاں دہلی میں ہیں۔میں اس کو ساتھ لے کر حضرت استاد کی خدمت میں پہنچا۔مجھے فرمایا کہ تم حرمین سے کیا کیا لائے۔میں نے بعض لطیف کتابوں کا ذکر کیا جو میں وہاں سے لایا تھا۔تو آپ نے فرمایا وہ سب مجھے دے دو۔میں نے انشراح صد ر سے کہا کہ وہ تو آپ ہی کی چیز ہے۔لیکن میں نے صندوقوں کو لاہور بھیج دیا ہے۔کیونکہ ریل وہاں تک ہے۔میں لاہور پہنچ کر وہ صندوق آپ کی خدمت میں بھیجوا دوں گا۔آپ نے سن کر فرمایا کہ ہم بھی لاہور دیکھنا چاہتے ہیں۔آج ہی چلیں۔میں بڑی خوشی سے حاضر ہوا اور آپ لاہور تشریف لائے۔بہت سے مقامات کی سیر میں میں آپ کے ساتھ ہی تھا۔باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ وہ صندوق ریل سے منگواؤ۔میں جب ریل کو جانے لگا تو فرمایا کہ ہم ہی منگوالیں گے۔چنانچہ اپنے نوکر کو بھیج کر وہ صندوق (جن کا محصول میں نے ابھی ادا نہیں کیا تھا) اپنی گرہ سے محصول دیگر منگوا لئے۔پھر مجھ سے کہا کہ یہ ہم نے صرف اس لئے کیا کہ کچھ ہمارا حصہ بھی ان میں شامل ہو جائے۔مطلب یہ کہ بمبئی سے لاہور تک کا کرایہ ان صندوقوں کا انہوں نے دے دیا۔اصل رحمت الہی کا ذکر کرنا مجھے مقصود ہے کہ اس وقت میری جیب میں اتنے روپے ہی نہ تھے کہ میں ان صندوقوں کا محصول دیتا۔بہر حال میں آپ کو رخصت کر کے شہر لاہور میں داخل ہوا تو ایک میرے وطن کا ہندو جس کے پاس بار برداری کے سامان تھے۔اس نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کا اسباب بھیرہ لئے چلتا ہوں آپ مجھے روپیہ بھیرہ میں دے دیں۔اس طرح مجھے اللہ تعالیٰ نے مع اسباب کے بھیرہ پہنچا دیا۔وہاں میرے ملنے کو شہر کے بہت سے ہندو مسلمان جمع ہوئے تو اسی جلسہ میں ایک مولوی صاحب نے یہ ذکر بھی کیا کہ بخاری ایک کتاب ہزار سال سے گمنامی کے کونے میں پڑی ہوئی تھی۔دلی کے ایک شخص نے جس کا نام اسماعیل تھا اس کتاب کو شائع کیا۔یہ خطر ناک کلمہ ایسا