مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 133
۱۳۳ تھا جس سے میرے کان آشنا نہ تھے اور میں نے اس قسم کا کلمہ کسی خارجی یا شیعہ سے بھی نہیں سنا تھا چہ جائیکہ ایک حنفی مذہب کے ممتاز عالم کے منہ سے نکلا۔مجھے تعجب ہوا پھر میرے دل میں غیظ و غضب پیدا ہوا۔وہ پہلا ہی دن تھا کہ میں اپنے وطن میں پہنچا تھا۔بہت کچھ نشیب و فراز دل میں پیدا ہوئے۔آخر میں نے اتنی بات سے تو رکنا مناسب نہ سمجھا کہ میں نے کہا کہ اول تو میں ابھی طالب علمی سے آیا ہوں نہ میرا مطالعہ نہ میری وسعت نظر نہ مجھے تجربہ۔لیکن بخاری کی ساتھ شروح کے نام اس وقت مجھے یاد ہیں۔اگر ایک شرح کو سولہ برس کے قریب قریب ختم کر لیا جائے جو کچھ زیادہ مدت نہیں معلوم ہوتی۔تو اس ہزار برس میں ہر روز بخاری کی شرح لکھی گئی ہے اور یہ شروح شافعی مذہب کی بھی ہیں۔حنفیوں کی بھی۔مالکیوں اور حنابلہ کی بھی۔میں نے خود بخاری کو ایک بڑے حنفی المذہب مولوی عبد القیوم صاحب سے بھوپال میں پڑھا ہے۔پھر شاہ عبد الغنی صاحب سے بھی۔ان دونوں کی صحبت میں میں نے کبھی ایسے لفظ نہیں سنے۔یہ میرا فقرہ اس مولوی صاحب کے قلب پر بجلی کا کام کر گیا۔پھر ایک دن میں اپنی مسجد میں مشکوۃ پڑھا رہا تھا۔اس میں یہ حدیث آئی کہ جو کوئی اذان کی آواز سنے وہ اذان کے کلمات کہے اور بعد اس کے اللهم رب هذه الدعوة التامة۔۔۔الخ آخر تک دعا پڑھے حلت له شفاعتی۔اس حدیث کے بیان کو ایک شخص عبد العزیز نام پشاوری جس کو عزیز بھی کہتے تھے سن کر مجھ سے کہنے لگا کہ آپ یہ دعا لکھ دیں۔اس وقت میرے پاس اتفاق سے انگریزی لکھنے کا لوہے کا قلم تھا جو بہت ہی باریک تھا اسی سے میں نے وہ دعا لکھ دی۔وہ چونکہ ضعیف العمر اور نظر کا کمزور تھا۔اس کے پڑھنے کی کوشش کی۔مگر اس کی کم نظری نے روک دیا۔وہ پرچہ لے کر ایک مشہور کاتب محمد دین کے پاس پہنچا کہ یہ دعا آپ بہت موٹے حروف میں خوش قلم لکھ دیں۔کاتب صاحب نے تو آگا پیچھا ہی نہ دیکھا کہ یہ دعا تو شفاعت کے لئے ہے وہ اس کاغذ کو لیکر بخاری کے دشمن مولوی صاحب کی خدمت میں پہنچے اور کہا کہ اس شخص کے قلم سے وارزقنا شفاعته کا لفظ