مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 131 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 131

شریف عورت ہوں۔کم عمری میں بیوہ ہو گئی اور ہمارے یہاں بوجہ شرافت کے بیوہ کا نکاح نہیں کرتے اور یہ بزرگ پیری مریدی کرتے ہیں۔ہمارے پڑوس میں انکے مرید رہتے ہیں۔میں نے ان سے مخفی طور پر نکاح کر لیا ہے جس کی خبر ہمارے گھر والوں کو نہیں۔اس طرح مجھ کو گیارہ دفعہ اسقاط کرانا پڑا۔پھر بھی میرے جوش جوانی کے ایسے تھے کہ میں نے مولوی صاحب سے عرض کیا کہ ہم آزادانہ میاں بیوی کے طور پر نہیں رہتے۔تم یہ کرو کہ ملتان پہنچو اور وہاں ایک جگہ مقرر کرلی کہ میں بھی ملتان پہنچتی ہوں۔پھر وہاں ہم خوب کھل کر رہیں گے۔جب میں حج کے ارادہ سے چلی تو میرے بھائی جو آسودہ حال تھے انہوں نے مجھے۔سے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ چلتے ہیں تاکہ تم کو تکلیف نہ ہو۔میں نے اس بات کو منظور کر لیا۔رات کو کسی گاؤں میں ہم لوگ ٹھرے۔رات کو بڑی شدت سے آندھی اور بارش آئی۔اور تمام مسافروں میں افرا تفری مچ گئی۔میں نے دور اندیشی کے طور پر عین بارش اور ہوا کے طوفان میں وہاں سے جنگل کی طرف رخ کیا اور صبح تک دوڑتی بھاگتی چلی گئی اور کچھ خبر نہ تھی کہ کدھر جاتی ہوں۔صبح کی روشنی میں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ ملتان کا راستہ کونسا ہے ؟ لوگوں نے مجھے ایک سڑک پر ڈال دیا۔میں نہیں جانتی کہ میرے بھائی واپس ہوئے یا کہاں تک انہوں نے میری تلاش کی۔میں جب ملتان پہنچی تو یہ میرے میاں صاحب منتظر کھڑے تھے۔وہاں سے ہم بخوشی و خرمی مکہ پہنچ کر یہ توں رہے جیسا کہ تم نے دیکھا ہے ہمارے گھر والوں کو کوئی خبر نہیں پہنچی۔اب میں جاتی ہوں۔ملتان کے ارد گرد میں اپنے میاں صاحب سے الگ ہو جاؤں گی۔یہ اصل بات ہے۔پس آپ ہمارا کوئی ذکر نہ کریں۔یہ قصہ صرف اس لئے بیان کیا ہے کہ بیواؤں کو بٹھانا اچھا نہیں۔وہ عورت کسی زمانہ میں ہمارے گھر میں بھی آئی تھی۔اللہ تعالی ان لوگوں کو توفیق دے۔جن کے گھر میں جوان اور بیوہ عورتیں ہیں کہ ان کا نکاح استخارہ کر کے کر دیں۔