مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 130
بھی کیا ہے۔میں جن دنوں وہاں تھا غالبا وہ ۸۵ ہجری یا ۸۶ ہجری کا زمانہ تھا۔امراض زیادہ تر اولاد کی کمی خون کی کمی، قہوہ کی کثرت ، عام ضعف پائے جاتے تھے۔وہاں رہنے کے لئے طبیب ایسا ہو جو کسی قدر دستکاری بھی جانتا ہو۔حج کے بعد علی العموم عرب لوگ اپنے گھر کی چیزیں بہت ارزاں فروخت کیا کرتے ہیں۔خصوصاً جب ان کا ارادہ عیش و عشرت کے لئے طائف جانے کا ہو تو روپیوں کی چیزیں کو ڑیوں میں فروخت کر دیا ان کے نزدیک بہت سہل ہے۔لیکن جب حجاج کی آمد کے دن ہوتے ہیں تو وہی چیزیں جو کوڑیوں میں خریدی تھیں روپیوں میں فروخت ہو سکتی ہیں۔حج کے بعد کباڑیوں کی طرح خریداری شروع کرے اور حج کے ابتدا میں بیچ دے تو اس طرح بڑی اعلیٰ درجہ کی تجارت ہو سکتی ہے۔قرضہ کا معاملہ بہت خطرناک ہے۔مجھ کو ایک نکتہ معرفت وہاں یہ حاصل ہوا کہ چونکہ ہر سال نئے حاجی آتے ہیں اور وہ بہت جلد چلے جاتے ہیں۔اس واسطے وہاں کے لوگوں کو کسی کامل انسان سے بھی سچی محبت کبھی نہیں ہو سکتی۔وہاں ہر روز نئے مہمان آتے اور جاتے ہیں۔اگر وہ شدید محبت کسی سے کریں تو پھر تو ان کی ہلاکت ہے۔میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ وہاں جناب الہی کی محبت کے واسطے خالص سامان مہیا ہے۔انسانی محبتیں کوئی چیز نہیں۔وہاں کے شرفا اور تجھی لوگ اور عرب اور عریانیہ بے شک ذہاں کے تمدن و معاشرت کا قابل قدر نمونہ ہیں اور ان کی مجالس میں فصیح زبان بھی بولی جاتی ہے۔گو کہ گستر متر بھی بول لیتے ہیں۔بهر حال بمبئی پہنچے۔ایک میاں بیوی جن کو میں نے مکہ میں دیکھا تھا۔مجھ کو ملے۔میں نے ان سے کہا کہ اگر تمہارا کچھ اسباب ہو یا تم کو اپنے گھر والوں کو کوئی پیغام دینا ہو تو مجھ کو دے دو۔میں ریل کے راستے جلد جاؤں گا انہوں نے اپنا ارادہ ظاہر کیا تھا کہ ہم آہستہ آہستہ دریا کے راستے ملک کو جائیں گے) وہ دونوں بہت شریف معلوم ہوتے تھے۔وہ عورت سرسے کپڑا اتار کر میرے پاؤں پر گر پڑی اور کہا کہ صرف آپ کی مہربانی یہ ہے کہ ہمارا اپتہ اس ملک میں کسی کو نہ دیں۔میں نے حیرت سے پوچھا کہ یہ بات کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں ایک