مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 116 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 116

قلاع کا مرض ہوا اور اطبا کے ناز سے وہ تنگ آگئے۔مجھ سے فرمایا کہ کوئی طبیب تمہارا دوست ہو تو اس سے دو الا دو۔میں اس فن کا خوب ماہر تھا۔میں نے یہ نسخہ بنا کر پیش کیا۔شورہ قلمی دو ماشہ - کتھا دو ماشہ۔الائچی خورد دو ماشہ - گل سرخ دو ماشہ - کافور ایک ماشہ - تو تیا ئے سبز بریاں چھ رتی۔شاید کچھ کمی بیشی بھی ہو۔مگر شیخ سے یہ اظہار نہ کیا کہ میں طبیب ہوں۔اس کے استعمال نے معافا ئدہ دیا۔یہ ان کو پھر بھی معلوم نہ ہوا کہ یہ خود طبیب ہے۔وہاں ایک اور امر میری طبی توجہ کے بڑھانے کا یہ ہوا کہ ڈاکٹر محمد و زیر خاں صاحب جو ہمارے شیخ مولوی رحمت اللہ کے بڑے دوست اور مناظر آگرہ میں شامل تھے۔مولوی صاحب کے مکان پر ان سے تعارف ہوا۔ان دنوں شریف مکہ کو سنگ مثانہ تھا۔چونکہ فرانس کے ساتھ وہاں کے شریف کا تعلق تھا، فرانس سے وہ آلہ جس سے پتھری پیس کر نکالتے ہیں ، منگوایا گیا اور ڈاکٹر صاحب نے اس کو پیس کر نکالا۔اس کامیاب تجربہ سے مجھے ڈاکٹری طلب کا بہت شوق ہوا مگر میری موجودہ حالت اور شواغل اس طرف جھکنے نہ دیتے تھے۔ڈیڑھ برس کے بعد مجھے کچھ سبکدوشی ہوئی تو حضرت شیخ المشائخ پیرو مرشد حضرت شاہ عبد الغنی رحمۃ اللہ علیہ سے نیاز حاصل ہوا اور اس طبیب روح کے باعث مدینہ چلا گیا۔ان کے حضور بہت مدت رہا۔اس عرصہ میں تمام دنیوی شواغل چھوٹ گئے۔صرف ایک مخلص عنایت فرما جو عورتوں کے تپ دق سے خوب ماہر تھے ، ان سے کبھی کبھی طبی تذکرہ ہو جایا کرتا تھا۔وہاں کی اقامت میں خود تجربہ کا خیال حضرت شاہ کی خاص توجہات کے باعث ہرگز نہ ہو سکا۔مکه معظمہ میں ایک قابل افسوس امریہ پیش آیا کہ میرے شہر کا رہنے والا میرا ہموطن ، میرا ہم مکتب ایک شخص وہاں رہتا تھا۔چونکہ اتنے تعلقات تھے اس لئے میں جب مدینہ طیبہ کو جانے لگا تو اپنا بہت سا اسباب اور روپیہ اس کے پاس رکھ دیا اور کہا کہ میں زمانہ در از تک مدینہ منورہ میں رہوں گا۔یہ روپیہ تجارت میں لگاؤ۔تم کو فائدہ ہو جائے گا۔میں جب آئندہ حج کے وقت آؤں گا تو روپیہ تم سے لے لوں گا۔تم حج کے زمانہ سے پہلے ہی روپیہ جمع رکھنا۔میں جب آیا اور حج سے فارغ ہوا تو روپیہ اور اسباب اس سے طلب کیا۔