مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 117
114۔بہت اصرار اور تقاضوں کے بعد ایک روز وہ مجھے کو ایک عمدہ عظیم الشان مکان کے پاس لے گیا جس کے دروازہ پر قفل لگا ہوا تھا۔کہنے لگا میں نے آپ کا روپیہ اور اسباب اس شخص کے پاس رکھ دیا ہے۔معلوم نہیں کہاں چلا گیا ہے۔اس گھر کی حیثیت بڑی عظیم الشان معلوم ہوتی تھی۔ہم دونوں کے باتیں کرتے ہوئے ایک عرب آگیا اور پوچھا کیا معاملہ ہے۔میں نے کہا میرا کچھ اسباب ہے جو اس صاحب خانہ کے پاس ہے اور تعجب ہے اتنا بڑا امکان ہے اور قفل لگا ہوا ہے۔تب اس نے کہا کہ یہ ہندی آدمی جو آپ کے پاس ہے ، یہ کیوں کھڑا ہے ؟ میں نے کہا اسی نے رکھا ہے۔یہ سنتے ہی اس نے بڑے طیش و غضب کا چہرہ بنا کر کہا یہ جھوٹا ہے۔یہ آپ کا مال اور روپیہ سب کھا گیا اور اس مکان کا مالک تو بڑا عظیم الشان آدمی ہے۔وہ تو مع اپنے کنبہ کے آدمیوں کے اپنے احباب کو رخصت کرنے گیا ہے اور جدہ میں اس وقت تک رہے گا جب تک کہ سب حجاج رخصت نہ ہو لیں۔مجھ سے تو اس نے بڑی محبت اور نرمی سے کلام کیا مگر ہمارے ہم مکتب کو بڑے غضب سے بہت گالیاں دیں۔ہمارا ہم مکتب خاموش اور شرمندہ ہو کر رہ گیا۔پھر عرب نے کہا یہ حال مکہ شہر کا ہے۔ان ہندیوں نے عرب کو بہت ہی بد نام کیا ہے اور اپنے قصور کی طرف مطلق توجہ نہیں کرتے۔پھر میری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ تمہارا کپڑا مال اور روپیہ سارا اسباب اس نے ایک بنگالی عورت کو دے دیا ہے اور یہ لوگ ایسے کام یہاں بہت کرتے ہیں۔اب اس سے آپ واپسی کی کوئی امید نہ رکھیں۔اس واقعہ سے اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ میرے ایک استاد جن کے مکتب کا وہ ہم مکتب تھا، جب حج کو جانے لگے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے مال و اسباب کی خود حفاظت کریں اور کسی شخص پر بھروسہ نہ کریں۔جب وہ حج سے واپس آئے میرا بہت شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تمہاری نصیحت کے سبب سے ہم اپنے ایک شاگرد کی دست برد سے بچ گئے۔اس قسم کی مخلوق بھی کہیں کہیں ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔دوسرا افسوس وہاں یہ دیکھا کہ ایک دفعہ میں منی سے آرہا تھا تو میں نے کسی سے دریافت کیا کہ محسب کہاں ہے۔کوئی نہیں بتا سکا۔پھر میں نے کہا کہ اچھا خیف بنی ،