مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 115 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 115

کا بڑا ادب کرتے ہیں۔اگر میں ان کے حضور پڑھتا رہوں تو وہ کبھی مجھ کو بند نہ کریں گے۔فرمایا۔وہ ڈرے تھے۔ہم نے مطمئن کر دیا ہے۔چنانچہ میں دوسرے دن گیا۔گو شیخ صاحب اس دن تو نہ بولے۔مگر میں نے سبق پڑھ لیا۔میں نے نسائی، ابو داؤد ابن ماجہ ان سے پڑھ لیں۔ان دنوں مولوی ابو الخیر صاحب دہلوی خلف الرشید حضرت محمد عمر نقش بندی مجددی مجھے در المختار پڑھا کرتے تھے۔کچھ مدت کے بعد حضرت شاہ عبد الغنی مجددی مدینہ سے مکہ میں تشریف لائے۔شہر میں بڑی دھوم دھام بچی۔میں بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس وقت وہ حرم میں بیٹھے ہوئے تھے اور ہزاروں آدمی ان کے گرد موجود تھے۔سنب سے پہلے میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ اعتکاف کب بیٹھا جائے۔طالب علمانہ زندگی بھی عجیب ہوتی ہے۔وہی ایک مسئلہ اتنے بڑے وجود کے سامنے میں نے پیش کیا۔آپ نے بے تکلف فرمایا کہ نہیں کی صبح کو۔میں تو سن کر حیران رہ گیا۔ان کی عظمت اور رعب میرے دل میں بہت پیدا ہوا۔مگر پھر بھی جرأت کر کے پوچھا کہ حضرت میں نے سنا ہے کہ یہ اجماع کے خلاف ہے۔ان کے علم پر قربان ہو جاؤں۔بڑے عجیب لہجہ میں فرمایا کہ جہالت بڑی بری بلا ہے۔حنفیوں میں فلاں فلاں شافعیوں میں فلاں۔حنابلہ میں فلاں۔مالکیوں میں فلاں۔کئی کئی آدمیوں کے نام لے کر کہا کہ ہر فرقہ میں اس نہیں کے بھی قائل ہیں۔میں اس علم اور تجربہ کے قربان ہو گیا۔ایک وجد کی کیفیت طاری ہو گئی کہ کیا علم ہے ، تب وہاں سے ہٹ کر میں نے ایک عرضی لکھی کہ میں پڑھنے کے واسطے اس وقت آپ کے ساتھ مدینہ جاسکتا ہوں ؟ اس کاغذ کو پڑھ کر یہ حدیث مجھے سنائی المستشار مؤتمن - پھر فرمایا کہ تمام کتابوں سے فارغ ہو کر مدینہ آنا چاہیے۔میں نے یہ قصہ جاکر حضرت مولانا زحمت اللہ کے حضور پیش کیا اور عرض کیا کہ علم تو اس کو کہتے ہیں۔یہ بھی عرض کیا کہ ہمارے شیخ تو ڈر گئے تھے مگر حضرت شاہ عبد الغنی صاحب نے تو حرم میں بیٹھ کر ہزارہا مخلوق کے سامنے فتوی دیا۔مگر کسی نے چوں بھی نہ کی۔فرمایا شاہ صاحب بہت بڑے عالم ہیں۔حرمین میں جن شیوخ سے میں پڑھتا تھا۔ان میں سے جو شیخ الحدیث تھے ان کی والدہ کو