مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 114 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 114

ہیں۔فرمایا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حکم ہے۔میں نے کہا انبیا کا اجماعی قبلہ تو بیت المقدس ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے تو آپ کو اہل کتاب کی کتابوں سے بہت آگاہ فرمایا ہے۔آپ ایک شخص کے فرمان پر اجماع انبیاء نبی اسرائیل کو کیوں چھوڑتے ہیں۔آپ نے تو اتنے بڑے اجماع کو چھوڑ دیا۔میں نے اگر جزوی مسئلہ میں ایک حدیث کے معنی میں اختلاف کیا تو حرج کیا ہوا۔فرمایا۔دل دھڑکتا ہے۔میں نے کہا۔جس کا دل نہ دھڑ کے وہ کیا کرے۔پھر فرمایا کہ دل دھڑکتا ہے اور کھڑے ہو گئے۔تب میں نے بہت دلیری سے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ محقق اور عالم ہیں۔ہر مسئلہ میں شخص واحد کا اتباع۔اس کے متعلق آپ مجھے ارشاد کریں۔فرمایا ہم تو امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں۔مگر ہر مسئلہ میں تو ہم فتویٰ نہیں دیتے۔میں نے عرض کیا کہ حضور کے فرمانے سے تقلید شخصی کا مسئلہ تو حل ہو گیا۔فرمایا تقلید کا مسئلہ بہت سهل اور بہت مشکل ہے۔میں نے عرض کیا کہ میں اس کلام کو سمجھا نہیں۔فرمایا ہر جزوی مسئلہ میں ایک ہی شخص کی تقلید نہ کسی نے کی نہ کوئی کر سکتا ہے اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ تقلید شخصی کوئی بڑی بات نہیں اور مسئلہ صاف ہو جاتا ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ ہم غدر میں ہندوستان سے بھاگے تھے۔تو پونا کے قریب ایک گاؤں میں ٹھرے وہاں جمعہ کے دن ایک شخص وعظ کے لئے کھڑا ہوا اور اس نے اس طرح شروع کیا کہ نہ میں پنچھی (حنفی) کی مانوں نہ شاھی (شافعی) کی۔میں وہ کہوں جو حضرت نبی کریم نے فرمایا ہے یہ کہہ کر اس نے مولوی خرم علی صاحب کی کتاب نصیحت المسلمین شروع کر دی۔بیچ میں یہ بھی کہا کہ یہ بات مسکوت میں لکھی ہے۔جب وہ وعظ سے فارغ ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہ مشکوۃ کو مسکوت کہہ رہے تھے۔سو اس لئے تقلید کا مسئلہ مشکل ہے۔کیونکہ وہ پہلا فتوی دیں۔تو جو لوگ مشکوۃ کو مسکوت کہتے ہیں وہ بھی مجتہد مطلق بن جاتے ہیں۔بات تو بہت ہی سہل تھی۔مگر بہت ہی مشکل ہو گئی۔ہم علی العموم ان باتوں کے دشمن نہیں۔تمہاری شفاعت تمہارے شیخ سے کر دی ہے۔تم سبق پڑھتے جائیو۔وہ روکیں گے نہیں اور آزادی سے پڑھو۔ہم نے شیخ کو مطمئن کر دیا ہے۔ہم تمہار انذاق خوب جانتے ہیں۔میں نے عرض کیا ہمارے شیخ حدیث