مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 105
۱۰۵ میں تین روپیہ کا ایک بکرا ہر روز خرید تاہوں اور نماز فجر کے بعد اس کو ذبح کر دیتا ہوں۔ایک بیر گوشت اس میں سے نکلوا کر باقی پر ایک سپاہی کھڑا کر دیتا ہوں کہ اس کے تین روپیہ وصول کرلے۔وہ باقی گوشت پوست فوراتین روپیہ میں فروخت ہو جاتا ہے اور لوگ علی الصبح آکر سب خرید کرلے جاتے ہیں۔اس طرح ہر روز ہم کو تین روپیہ بچ جاتے ہیں۔یہ طریقہ انہوں نے اپنے بہت سے کھانے پینے میں مقرر کر رکھا تھا۔مگر مجھ کو تو صرف گوشت کا حال سنایا تھا۔بھوپال کے واقعات بہت ہی عجیب ہیں۔مگر طبی امور کے متعلق صرف یہ بات قابل ذکر ہے کہ میں نے نہایت عمدہ دو صد ریاں بنوائی تھیں جن کے پہننے کی ہمیشہ مجھے عادت تھی۔ان میں ایک چوری ہو گئی۔مجھے یقین ہوا کہ طالب علمی کی حالت میں یہ ایک مصیبت ہے۔مصیبت پر صبر کرنے والے کو نعم البدل ملتا ہے۔دوسری صدری کو اس کے شکریہ میں دے دیا۔تھوڑے دنوں کے بعد ایک امیر کبیر کے لڑکے کو سوزاک ہوا۔اس نے اپنے آدمی کو کہا کہ کوئی ایسا طبیب جس کو لوگ نہ جانتے ہوں بلا لاؤ۔مگر وہ بنی ہوئی روانہ دے بلکہ سہل دوا بتلادے ایسی نہ ہو کہ جس کے بنانے میں مجھے عام نوکروں کو آگاہی کرنی پڑے۔جن سے کہا تھا ان کا نام پیرا بو احمد مجددی تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک طالب علم طبیب ہے اور اس کے طبیب ہونے سے لوگ ناواقف ہیں۔میں اس کو اپنے ساتھ لاؤں گا۔چنانچہ وہ مجھ کو وہاں لے گئے۔وہ نوجوان اپنے گھر کے ایک دالان کے آگے کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔وہاں ایک باغیچہ بھی تھا۔وہیں ہمارے لئے کرسیاں منگوا ئیں۔میں نے اس کا حال دریافت کر کے کہا کہ کیلے کی جڑھ کا ایک چھٹانک پانی صاف کر کے اس میں یہ شورہ قلمی جو آپ کے دالان میں بارود کے لئے رکھا ہے کئی دفعہ پئیں اور شام تک مجھے اطلاع دیں۔میں کہہ کر چلا آیا اور قدرت الہی سے اس کو شام تک تخفیف ہو گئی۔اس نے مجھے ایک گراں بہا خلعت اور استار و پسیہ دیا کہ مجھ پر حج فرض ہو گیا۔ساتھ ہی یہ بات ہوئی۔کہ مجھے شدت بخار میں سیلان اللعاب خطرناک رنگ میں شروع ہوا۔جس میں پانی بودار سیاہ رنگ کا نکلتا تھا۔ایک شخص حکیم فرزند علی نے