مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 104 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 104

۱۰۴ حدیث سنائیں گے۔جب آپ نے روپیہ رکھا تو ہم کو رنج ہوا کہ یہ تو دنیا دار آدمی ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ روپیہ کوئی دے تو واپس نہ کرو۔اس لئے ہم روپیہ تو لے لیتے مگر روپیہ لے کر پھر حدیث نہ سناتے۔اب معلوم ہوا کہ تم بڑے ذہین آدمی ہو اس لئے ضرور آیا کریں گے اور تم کو حدیث سنائیں گے۔یہ بھی فرمانے لگے کہ ہم کو روپیہ کی ضرورت نہیں۔ہمارے گھر اس قدر کھجوریں پیدا ہو جاتی ہیں جو سال بھر کے لئے کافی ہوتی ہیں۔ہمارے گھر کے اونٹ ہیں۔ایک طرف اونٹ پر کھجوریں لاد لیتے ہیں۔دوسری طرف غلام کو سوار کر لیتے ہیں۔پانی کا مشکیزہ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔اسی طرح حج کو جاتے ہیں اور دور دور سفر کر آتے ہیں۔کسی چیز کی اور الحمد للہ ضرورت نہیں۔یہ قصہ خود منشی جمال الدین صاحب نے بلا کسی وساطت کے سنایا۔محمد بن ناصر حضرمی (حضرموت کے رہنے والے) جب بات کرتے تھے تو بہت جلد جلد بلا تکان زبان سے الفاظ نکلتے تھے۔مگر کوئی لفظ قرآن و حدیث کے الفاظ سے باہر نہ ہوتا۔منشی جمال الدین صاحب کی ایک یہ بات دیکھی کہ وہ ہمیشہ نابینا مرد یا نابینا عورت کی تلاش میں رہتے تھے اور دور دور سے بلواتے تھے۔کبھی مرد و عورت دونوں نابینا ہوتے تھے اور ان کی شادی کر دیتے تھے۔کبھی دونوں میں ایک ہی نابینا ہو تا تھا۔ان سب کا تمام خرچ وہ خود برداشت کرتے تھے اور ان کا ایک محلہ آباد کیا تھا۔ان کے جو بچے ہوتے تھے۔ان کے لئے اسی محلہ میں ایک مدرسہ بھی جاری کیا تھا۔ایک روز ایک لڑکے کو (جس کے ماں باپ دونوں نابینا تھے) دیکھ کر وجد کی حالت فشی صاحب پر طاری ہو گئی۔مجھ سے کہنے لگے کہ دیکھو اس کی دونوں آنکھیں کیسی اچھی ہیں۔وہاں دور دور کے اندھے جمع تھے۔حتی کی ایک سیالکوٹ کا بھی تھا۔منشی صاحب اقتصاد کے بڑے عالم تھے۔ان کے لئے عضلہ کا ایک سیر گوشت خصوصیت سے پکتا تھا۔ایک وقت کھانا کھاتے تھے۔اس گوشت میں کئی آدمیوں کو شریک کر لیتے تھے۔ایک روز مجھ سے کہنے لگے کہ میں نوجوان تھا جب یہاں نو کر ہوا۔میں نے تین روپیہ سے زیادہ کا گوشت اب تک نہیں کھایا۔مجھے کو سن کر بہت تعجب ہوا۔تو فرمانے لگے کہ