مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 106 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 106

I ۱۰۶ مجھے رائے دی کہ آپ کا وطن اگر قریب ہے تو جلد چلے جائیں۔اس احتراقی مواد سے بچنے کی کوئی امید نہیں۔شام کے وقت ایک بزرگ جو وہاں مہتم طلبہ " العلم تھے اور نہایت ہی مخلصانہ حالت میں تھے۔آئے اور کہنے لگے کہ میں بوڑھا ہوں اور میرے منہ سے لعاب آتا ہے۔کوئی ایسی چیز بتاؤ جو افطار کے وقت کھا لیا کروں۔میں نے کہا مربائے آملہ بنارسی۔دانہ الائچی۔ورق طلا سے افطار کریں۔وہ یہ نسخہ دریافت کر کے گئے۔معا واپس آئے اور ایک مرتبان مربہ اور بہت سی الائچیاں اور دفتری ورق طلا کی میرے سامنے لار کبھی اور کہا کہ آپ کے منہ سے بھی لعاب آتا ہے۔آپ بھی کھائیں۔میں نے ان کو کھانا شروع کیا۔ایک آدھ کے کھانے سے چند منٹ کے لئے تخفیف ہو گئی۔جب پھر پانی کا آغاز شروع ہوا تو ایک اور کھا لیا۔غرض مجھے یاد نہیں کہ کس قدر کھا گیا۔عشاء کے بعد مجھے بہت تخفیف ہو گئی۔میں نے بجائے وطن کے حرمین کا ارادہ کر لیا۔میں جب بھوپال سے رخصت ہونے لگا تو اپنے استاد مولوی عبدالقیوم صاحب کی خدمت میں رخصتی ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔سینکڑوں آدمی بطریق مشایعت میرے ہمراہ تھے۔جن میں اکثر علماء اور معزز طبقہ کے آدمی تھے۔میں نے مولوی صاحب سے عرض کیا کہ مجھ کو کوئی ایسی بات بتا ئیں جس سے میں ہمیشہ خوش رہوں۔فرمایا کہ ”خدانہ بننا اور رسول نہ بننا۔میں نے عرض کیا کہ حضرت یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی اور یہ بڑے بڑے عالم موجود ہیں۔غالبا یہ بھی نہ سمجھے ہوں گے۔سب نے کہا۔ہاں ہم بھی نہیں سمجھے۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ تم خدا کس کو کہتے ہو ؟ میری زبان سے نکلا کہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت فَعَالُ لِمَا يُرِيدُ۔وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔فرمایا کہ بس ہمار ا مطلب اسی سے ہے۔یعنی تمہاری کوئی خواہش ہو اور وہ پوری نہ ہو تو تم اپنے نفس سے کہو کہ میاں تم کوئی خدا ہو ؟ رسول کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آتا ہے وہ یقین کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی سے لوگ جہنم میں جائیں گے۔اس لئے اس کو بہت رنج ہوتا ہے۔تمہار ا فتویٰ اگر کوئی نہ مانے تو وہ یقینی جہنمی تھوڑا ہی ہو سکتا ہے۔لہذا تم کو اس کا بھی رنج نہ ہونا چاہیے۔حضرت