حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 94
سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود حضرت میاں محمد موسیٰ رضی اللہ عنہ کی وفات حضرت حاجی محمد موسیٰ صاحب اپنے تین پوتوں کے دریائے راوی میں ڈوبنے کو ابھی نہ بھولے تھے کہ ان کی صاحبزادی عائشہ بیگم (خاکسار کی ساس محترمہ) بھی دو ہفتہ بعد ایک طویل بیماری کے باعث اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں۔بچوں کے ڈوبنے کے غم کے بعد یہ نیا حادثہ رونما ہو گیا۔اب تو موسیٰ صاحب نے چپ سادھ لی جیسے خدا تعالیٰ نے انہیں صبر عطا کر دیا ہو۔کسی قسم کا ناشکری کا کوئی کلمہ زبان پر نہ آیا۔خدا تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ڈوبنے والے بچوں اور اپنی صاحبزادی کے لئے دعائیں کرتے رہتے تھے۔یہ سارے صدمات آخر کار جان لیوا ثابت ہوئے اور 24 دسمبر 1945ء کو وہ خود بھی اس جہانِ فانی سے اپنے مولا کے پاس حاضر ہو گئے۔114 اناللہ وانا الیہ راجعون۔(القرآن۔البقرة:157) دعا ہے کہ خد اتعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان سے راضی ہو۔دوماہ سے کم عرصہ میں خاندان کے پانچ افراد وفات پاگئے۔اس سال کو ہماری فیملی میں غم کا سال کہا جاتا ہے۔میاں موسیٰ صاحب کا جسدِ خاکی ان کی دکان واقع نیلا گنبد لایا گیا اور اسی جگہ رکھا گیا جہاں آقا حضرت مسیح موعود تشریف لائے تھے اور ان کی دکان کے باہر کرسی پر بیٹھے تھے۔جماعت احمدیہ کی کثیر تعداد ان کے آخری دیدار کے لئے جمع ہو گئی۔عزیز و اقارب بھی پہنچ گئے۔نیلا گنبد کے اس مقام پر ان کا جنازہ ادا کیا گیا جہاں آقا و مولا حضرت مسیح موعود آپ کی دکان کے باہر کرسی پر بیٹھے تھے۔غیر احمدی احباب نے اپنا علیحدہ جنازہ پڑھا۔اس کے بعد ان کی میت بہشتی مقبرہ قادیان لے جائی گئی اور وہاں بھی احباب جماعت کی کثیر تعداد نے جنازہ ادا کیا۔پھر خاندان موسیٰ کے جد امجد کو بہشتی مقبرہ میں سپر د خاک کر دیا گیا۔14 روز نامہ الفضل ربوہ میاں محمد موسیٰ کی وفات 25 دسمبر 1945ء صفحہ 2