حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 10
سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود کروں گا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے وقت میں بہت سے صحابہ موجود تھے اس لئے آپ نے صحابہ کو ان دنوں میں توجہ بھی دلائی، نصیحت بھی کی یا ان کے رشتہ داروں کو توجہ دلائی کہ یہ روایات جمع کریں کیونکہ یہی چیزیں آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے نصیحت اور حقیقی تعلیم اور بعض مسائل کا حل پیش کرنے والی ہوں گی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی حضرت مصلح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ایک بات جس کی طرف میں نے اس سال جماعت کو خصوصیت سے توجہ دلائی ہے۔(جب یہ بات آپ فرمارہے ہیں) اور وہ اتنی اہم ہے (اس کی ساری بیک گراؤنڈ یہ ہے کہ ایک زمانے میں جماعت میں فتنہ اٹھا اس فتنے کو آپ بیان فرمارہے ہیں کہ کس طرح ہمیں روکنا چاہیے اور ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہمیں پہنچتی ہے وہ ہمارے لئے مددگار ہوتی ہے اور بہت سی برائیوں سے روکنے والی ہوتی ہے۔بہر حال آپؐ فرماتے ہیں) کہ جتنی بار اس کی اہمیت کی طرف جماعت کو متوجہ کیا جائے کم ہے اور وہ بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات اور آپ کے کلمات صحابہ سے جمع کرائے جائیں۔فرماتے ہیں کہ ہر شخص جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک چھوٹی سے چھوٹی بات بھی یاد ہو اس کا اس بات کو چھپا کر رکھنا اور دوسروں کو نہ بتانا یہ ایک قومی خیانت ہے۔(خطبہ جمعہ 13 ستمبر 2015ء، خطبات مسرور جلد 13 ، صفحہ نمبر 9-558) حضور کی مندرجہ بالا ہدایات کی روشنی میں حضرت حاجی محمد موسی صحابی حضرت مسیح موعودؓ کے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ زندگی کے واقعات ایک جگہ اکٹھے کئے گئے ہیں تاکہ احباب جماعت کے لئے مشعل راہ ثابت ہوں۔خدا تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین۔یہ ایک مشکل کام تھا کہ حالات اور واقعات کو اکٹھا کیا جاتا کیونکہ ان کے ماخذ مختلف ذرائع تھے۔ان کا ایک بڑا حصہ ان واقعات پر مبنی ہے جو خلفائے احمدیت نے میاں محمد موسیٰ کے بارے میں اپنے خطبات میں بتائے اور جماعت احمدیہ کے مورخین نے ان کا تذکرہ تواریخ میں سپرد قلم کیا۔اس کے علاوہ مصنف کتاب ہذا نے ان کے بارے میں اپنے والد محترم میاں محمد یحی اور دیگر بزرگوں سے عینی شہادت کے طور پر واقعات سنے اور نوٹ کیے۔اس کام کی نوعیت کے پیش نظر کچھ بے ضابطگیاں سرزد ہونا عین ممکن ہے۔یہ 10 10