لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 216
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں کس قدر مخالفت تھی۔تمام مذاہب اور اقوام کے لوگ انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی رنگ میں بھی شدید مخالفت کرتے رہے۔آپ پر سخت قسم کے مقدمات بنائے گئے۔مجالس میں صحابہ کی موجودگی میں گالیاں دی گئیں لیکن آپ نے نہ صرف ان سب باتوں کو حکمت اور صبر کے ساتھ برداشت کیا بلکہ خدمت دین اور اعلائے کلمہ حق کے کاموں میں پورے انہماک اور ان تھک محنت سے ہمہ وقت مصروف رہے۔کبھی مخالفت سے گھبرا کر آپ کے قدم رکنے نہیں پائے۔اللہ تعالیٰ بھی آپ کے کاموں میں برکت ڈالتا رہا اور آپ کی پیاری جماعت کو ہر پہلو سے وسعت دیتا رہا۔آپ اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”جب میں صبر کرتا ہوں تو تمہارا فرض ہے کہ تم بھی صبر کرو۔درخت سے بڑھ کر تو شاخ نہیں ہوتی۔تم دیکھو کہ یہ کب تک گالیاں دیں گے۔آخر یہی تھک کر رہ جائیں گے۔اُن کی گالیاں، اُن کی شرارتیں اور منصوبے مجھے ہر گز نہیں تھکا سکتے۔اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ آتا تو بیشک میں ان کی گالیوں سے ڈر جاتا، لیکن میں جانتا ہوں کہ مجھے خدا نے مامور کیا ہے پھر میں ایسی خفیف باتوں کی کیا پرواہ کروں۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔تم خود غور کرو کہ اُن کی گالیوں نے کس کو نقصان پہنچایا ہے اُن کو یا مجھے ؟ ان کی 216