لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 192
پھر ایک اور موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے عمل اس سے منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے۔صدقہ جاریہ کے یا ایسے علم کے جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک اولا د کے جو اس کے لئے دعا کرے۔“ (صحیح مسلم۔کتاب الوصیت) پس اسلام میں اولاد کی نیک تربیت کی خاص اہمیت ہے اور ہماری جماعت کہ جسے سب دنیا کا معلم بنایا گیا ہے اس کے بچے تو دوسروں سے بہت اچھے اور منفر د نظر آنے چاہئیں۔ان کے طور طریقے مہذبانہ ہونے چاہئیں۔ان کی گفتگو اور طرزِ زندگی پاکیزہ اور دوسروں کے لئے مثالی ہونی چاہئے اور ان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی تعلیمات اور تربیت کا اثر نمایاں نظر آنا چاہئے۔بچوں کی تربیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے ساتھ دوستی کا ماحول پیدا کیا جائے۔وہ کوئی سوال پوچھیں تو انہیں جواب دے کر ان کی تسلی کروانی چاہئے تا کہ انہیں یہ احساس ہو کہ والدین ان کے ہمدرد اور دوست ہیں۔وہ آپ کو اپنار از دان سمجھیں۔اپنے معاملات میں آپ سے مشورہ لیں اور برائیوں کو آپ سے چھپائیں نہیں۔انہیں سچ کا خلق اپنانے کی نصیحت کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو انسان کی نفسیات اور فطرت کو سمجھنے 192