لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 191
پر جھوٹ بولا جاتا ہے اور بچوں کو بھی جھوٹ میں مبتلا کیا جاتا ہے مثلاً یہی کہ کسی سے ملنا نہیں چاہتے تو بچے سے دروازے پر جواب دلوا دیا کہ گھر پر نہیں ہیں۔اسی طرح عہدیداروں کی کوئی بات پسند نہ آئے تو اپنے دلوں میں نافرمانی کی سوچ پیدا کرلینا۔عہدیداروں سے ضد کرنا، ان سے بحث کرنا اور بات نہ ماننا۔یہ وہ برائیاں ہیں جو اگر بڑے نہ چھوڑیں تو پھر یہ اولاد میں منتقل ہو جاتی ہیں اور ان کی تربیت بگڑ جاتی ہے۔بڑوں کو دیکھ کر ان کے اندر نظام جماعت کی نافرمانی پیدا ہونے لگتی ہے اور عہدیداروں کا احترام دلوں سے اٹھنے لگتا ہے۔ایسے والدین کو سمجھایا جائے تو کہتے ہیں زمانہ بدل گیا ہے، بچے بڑوں کی بات نہیں مانتے۔حالانکہ یہ سب کچھ بچوں کی بر وقت تربیت نہ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو چھوٹی عمر سے بچوں کی تربیت کا خیال رکھنے کی نصیحت فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ آپ نے فرمایا جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کی تاکید کرو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر سختی کرو اور اس عمر میں انہیں الگ الگ بستر پر سلا یا کرو۔( ترمذی ابواب البر والصلة) 191