لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 193
والے تھے آپ نے ایک موقع پر ایک شخص کو جھوٹ سے پر ہیز کرنے کی نصیحت فرمائی اور سچائی کو اختیار کرنے کی برکت سے اس کی ساری برائیاں دور ہو گئیں۔والدین کو یہ فکر ہونی چاہئے کہ ان کی اولاد دین کی خادم ہو۔انہیں ان کے عقائد کی اصلاح اور اخلاق بہتر بنانے کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لوگ اولاد کی خواہش تو کرتے ہیں، مگر نہ اس لئے کہ وہ خادمِ دین ہو بلکہ اس لئے کہ وہ دنیا میں ان کا کوئی وارث ہو اور جب اولاد ہوتی ہے تو اس کی تربیت کا فکر نہیں کیا جاتا نہ اس کے عقائد کی اصلاح کی جاتی ہے اور نہ اخلاقی حالت کو درست کیا جاتا ہے۔یہ یاد رکھو کہ اس کا ایمان درست نہیں ہو سکتا جو اقرب تعلقات کو نہیں سمجھتا۔جب وہ اس سے قاصر ہے تو اور نیکیوں کی امید اس سے کیا ہو سکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔(الفرقان:75) یعنی خدا ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرمادے اور یہ تب ہی میسر آسکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عباد الرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر شے پر مقدم کرنے والے ہوں۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 562 تا 563) 193