لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 336

لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 156

یورپ کے معاشرے میں تو لباس بھی ایسے ہیں جن کے استعمال کی ہمارا پیارا دین اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا۔ایسے حالات میں احمدی ماؤں اور بچیوں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو معاشرتی برائیوں سے بچائیں اور اسلامی تعلیمات اور اسلامی اقدار کے مطابق زندگی بسر کریں۔مثلاً لجنات اپنے لباس اور پر دے کا خیال رکھیں اور اپنی بچیوں کی بھی اس پہلو سے نگرانی کریں کہ ان کے لباس، چال چلن اور رحجانات پر احمدیت کی چھاپ نظر آنی چاہئے۔جیسے جیسے بچیاں پر دہ کی عمر کو پہنچیں ان سے پردہ کر وائیں۔اور انہیں معاشرے کی جدت پسندی کے نام پر غلط قسم کے فیشنوں سے ہر گز متاثر نہ ہونے دیں۔آپ اپنے بچوں کو نمازوں کا پابند بنائیں۔انہیں قرآن کریم پڑھنا سکھائیں اور تلاوت کی عادت ڈالیں۔آپ انہیں ایم ٹی اے دکھایا کریں اور خلافت کی برکات سے آگاہ کیا کریں۔اسی طرح انہیں خلیفہ وقت کو دعائیہ خطوط لکھنا بھی سکھائیں اور جماعتی اجلاسات اور پروگراموں میں شامل کریں نیز ان کی ایسی تربیت کریں کہ وہ جماعتی خدمت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔آنحضور صلی اہل علم نے تربیت اولاد کی خاص نصیحت فرمائی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضور صلی الظالم نے فرمایا : ہر بچہ فطرت اسلامی پر پیدا ہوتا ہے۔پھر اس کے ماں باپ یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔156