لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 93 of 336

لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 93

پھر ہم میں اور ان میں فرق کیا ہوا؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو اپنے متبعین کی ایسی مثالی جماعت بنانا چاہتے تھے جو حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کا خیال رکھنے والے ہوں۔آپس میں رشتہ اخوت کو مضبوط تر کرنے کی آپ نے بارہا جماعت کو نصائح فرمائی ہیں۔آپ نے کشتی کنوح میں اپنے مانے والوں کو نصیحت فرمائی کہ ” تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔“ ایسا ہی ایک اور جگہ فرماتے ہیں: میں اس وقت اپنی جماعت کو جو مجھے مسیح موعود مانتی ہے خاص طور پر سمجھاتا ہوں کہ وہ ہمیشہ ان ناپاک عادتوں سے پر ہیز کریں۔مجھے خدا نے جو مسیح موعود کر کے بھیجا ہے اور حضرت مسیح ابن مریم کا جامہ مجھے پہنا دیا ہے اس لئے میں نصیحت کرتاہوں کہ شر سے پر ہیز کرو اور نوع انسان کے ساتھ حق ہمدردی بجالاؤ۔اپنے دلوں کو بعضوں اور کینوں سے پاک کرو کہ اس عادت سے تم فرشتوں کی طرح ہو جاؤ گے۔کیا ہی گندہ اور ناپاک وہ مذہب ہے جس میں انسان کی ہمدردی نہیں اور کیا ہی ناپاک وہ راہ ہے جو نفسانی بغض کے کانٹوں سے بھرا ہے۔۔۔آؤ میں تمہیں ایک ایسی راہ سکھاتا ہوں جس سے تمہارا نور تمام نوروں پر غالب رہے اور وہ یہ ہے کہ تم تمام سفلی کینوں اور حسدوں کو چھوڑ دو اور ہمدرد نوع انسان ہو جاؤ اور خدا میں کھوئے جاؤ اور اس کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی 93