میری والدہ — Page 76
اللہ تعالیٰ کے ہر شئے پر قادر ہونے اور قبولیت دعا پر انہیں حق الیقین تھا۔کیونکہ یہ اُن کے روزانہ مشاہدہ کی بات تھی۔بیماری کے علاج کے سلسلہ میں اُن کا یہ قاعدہ تھا کہ علاج بتانے کے ساتھ ہی دعا میں لگ جاتی تھیں۔اُن کی وفات سے چند دن پہلے کا واقعہ ہے کہ میرے ایک دوست کے پاؤں میں آبلہ سا ہو گیا اور اس سے انہیں کچھ غیر معمولی سی تکلیف ہونے لگی۔میں نے والدہ صاحبہ سے ذکر کیا۔انہوں نے علاج بتایا اور کہا۔اُن سے کہو یہ علاج کریں اور میں دعا کرونگی اللہ تعالیٰ رحم کرے گا اور شفا دیگا۔دوسرے دن جب وہ خود اپنی بیماری کی وجہ سے بستر میں تھیں تو مجھ سے کہا کہ ٹیلیفون کر کے اپنے دوست کا حال دریافت کرو۔میں نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے وہ علاج نہیں کیا اور تکلیف ابھی جاری ہے۔تب والدہ صاحبہ نے کہا۔اُن سے اصرار کرو کہ جیسے میں نے بتایا ہے علاج کریں۔میں دعا کر رہی ہوں اللہ تعالیٰ ضرور شفا دے گا۔چنانچہ دوسرے ہی دن اُن صاحب نے اطلاع دی کہ والدہ صاحبہ کی ہدایت کے مطابق علاج کیا گیا تھا۔اب بہت افاقہ ہے۔والدہ صاحبہا کر فرمایا کرتی تھیں کہ جب میں کسی کو کوئی علاج بتاتی ہوں۔تو اس رنگ میں بھی دعا کرتی ہوں کہ یا اللہ میں نے تیرے فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ جرات کر لی ہے۔اب تو ہی اس شخص پر رحم فرما اور وہ بہت دفعہ میری عرض کو قبولیت بخشتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا بھی اُن کے ساتھ رُبَّ اشْعَتْ أَغْبَرَ والا سلوک تھا۔والدہ صاحبہ کا اپنی وفات کے متعلق رویا تمیں سال سے زائد عرصہ ہوا۔اُنہیں خواب میں بتایا گیا کہ اُن کی وفات اپریل کے مہینہ میں ہوگی۔پھر کچھ عرصہ بعد بتایا گیا کہ اپریل کے آخری بدھوار کے دن وفات ہوگی۔انہیں اس بات پر یقین تھا کہ یہ اطلاع اللہ تعالیٰ کی طرف سے