میری والدہ — Page 77
22 ہے۔لیکن ساتھ ہی جانتی تھیں کہ ریا اور خواب تعبیر طلب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور اس کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں۔جنوری ۱۹۳۸ء میں جب خاکسار انگلستان جانے لگا۔تو والدہ صاحبہ نے دریافت کیا۔اپریل تک واپس آ جاؤ گے ؟ میں نے جواب دیا امید کرتا ہوں انشاء اللہ۔اس پر انہوں نے بہت اطمینان کا اظہار کیا۔چنانچہ خاکسار یکم اپریل کی شام کو واپس دہلی پہنچ گیا۔انگلستان سے میں نے والدہ صاحبہ کی خدمت میں لکھا تھا کہ انشاء اللہ یکم اپریل کو دہلی پہنچ جاؤں گا اور ۱۲ دن دہلی ٹھہرنے کے بعد قادیان جاؤں گا۔اگر آپ پسند فرمائیں۔تو دہلی تشریف لے آئیں اور اگر سفر کی تکان اور تکلیف کا خیال ہو تو پھر انشاء اللہ ۳، راپریل کو قادیان ملاقات ہوگی۔یکم اپریل کو گاڑی پونے دو گھنٹے دیر سے دہلی پہنچی۔سٹیشن پر پہنچتے ہی معلوم ہوا کہ والدہ صاحبہ موٹر میں بیٹھی انتظار کر رہی ہیں۔چنانچہ جب میں موٹر میں پہنچا۔تو دعا دی اور پیار کیا اور کہا تم نے یہ کیسے خیال کیا کہ میں بارہ دن اور انتظار کر سکونتگی ؟ والدہ صاحبہ کی علالت ابھی ہم دہلی ہی میں تھے کہ والدہ صاحبہ کو خون کے دباؤ کی تکلیف ہوگئی۔پہلے بھی کبھی کبھی انہیں یہ تکلیف ہو جایا کرتی تھی۔چنانچہ علاج کرنے پر دباؤ کی اصلاح ہوگئی اور تکلیف رفع ہو گئی۔انہی ایام میں انہوں نے ایک رویا دیکھا۔جس پر وہ اپنی طبیعت میں بہت خوشی محسوس کرتی تھیں اور گو اس کی تعبیر کو خوب سمجھتی تھیں۔لیکن بار بار اور خوشی خوشی اُسے بیان کرتی تھیں۔فرمایا میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک پلنگ پر تشریف فرما ہیں اور بہت خوش نظر آتے ہیں۔مجھے آپ کو دیکھ کر دل میں بہت خوشی محسوس ہوئی اور میں نے عرض کیا یا حضرت اگر حضور اجازت دیں۔تو میں حضور کے