میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 75 of 102

میری والدہ — Page 75

۷۵ کہ رستہ میں رات کے وقت رین میں کسی شخص نے ایک لمبا خنجر اس جگہ پر گھونیہ جہاں اس کا سینہ ہوتا اگر حملہ سے پیشتر اس نے اپنا بستر بدل کر اپنے پاؤں اُس جگہ نہ کر لئے ہوتے چنانچہ خنجر جو بہت زور سے گھونپا گیا تھا۔لحاف سے گزر کر تو شک سے گنہ رتا ہو اچھڑے کے گرنے میں اسد اللہ خان کے دونوں گھٹنوں کے درمیان گڑ گیا اور اسی حالت میں گڑا ہو اپایا گیا۔اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالی نے والدہ صاحبہ کو قبل از وقت اس خطرہ کی اطلاع دے کر صدقہ اور دعا کی تحریک کی اور پھر اس کے نتیجہ میں اپنے فضل اور رحم سے اس بلا کو ٹال دیا۔مجھے خوب یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں جب بھی طاعون کا دورہ شروع ہوتا تو والدہ صاحبہ کو قبل از وقت خواب کے ذریعہ اس کی اطلاع دی جاتی اور وہ اُسی وقت سے دعاؤں میں لگ جاتیں اور پھر جب افاقہ کی صورت ہوتی تو بھی خواب کے ذریعہ انہیں اطلاع ملی جاتی۔اسی طرح ہمارے رشتہ داروں اور متعلقین میں خوشی اور غم کے مواقعے پر انہیں قبل از وقت خبر دی جاتی۔سلسلہ کے بڑے بڑے واقعات اور دفعہ جاتی۔بعض دفعہ دنیا کے بڑے بڑے واقعات سے بھی انہیں اطلاع دی جاتی۔باواجھنڈ اسنگھ صاحب ریٹائر ڈسینئر سب جج نے میرے پاس بیان کیا کہ جب میں ۱۹۳۶ء کی گرمیوں میں شملہ ٹھہرا ہوا تھا۔تو ایک دن تمہارے مکان پر تمہاری والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ قصور میں ہیضہ کی خبر ملنے پر مجھے بہت تشویش تھی اور میں بہت دعائیں کر رہی تھی۔رات مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتہ کے بعد قصور میں ہیضہ کی وارداتیں بند ہو جائیں گی۔باوا صاحب فرماتے تھے کہ میں اخباروں ) میں دیکھتارہا اور پورے ایک ہفتہ کے بعد قصور میں ہیضہ کی وارداتیں بند ہوگئیں۔والدہ صاحبہ کا اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان