میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 74 of 102

میری والدہ — Page 74

خالہ صاحبہ تشریف لائیں اور دوران گفتگو میں مہنس کر کہا کہ میں نے آپ کو بھائی جان کی طرف سے ایک پیغام دینا ہے۔والدہ صاحبہ نے دریافت کیا۔کیا پیغام ہے؟ خالہ صاحبہ نے کہا۔کچھ دن ہوئے میں نے بھائی جان کو خواب میں دیکھا۔ایک نو جوان عورت اُن کے پاس کھڑی تھی اور پنکھا ہلا رہی تھی۔کچھ باتیں بھی ہوئیں۔پھر انہوں نے مجھ سے کہا۔ظفر اللہ خان کی والدہ سے کہنا کہ وہ خوامخواہ دق ہو ئیں۔یہ عورت تو میری خدمت کے لئے مقرر ہے میرا اس کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں“۔اس پر والدہ صاحبہ نے خواب میں جو انہیں احساس ہو اتھا اس کا ذکر خالہ صاحبہ سے کیا۔والد صاحب کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ایک رویا میں والدہ صاحبہ نے والد صاحب کو دیکھا۔والد صاحب نے دریافت کیا آپ اس قدر افسردہ کیوں ہیں؟ والدہ صاحبہ تو اس پر خاموش رہیں۔ہمارے پھوپھا صاحب چوہدری ثناء اللہ خاں صاحب نے جو پاس تھے جواب دیا۔آپ کی جدائی کی وجہ سے افسردہ ہیں۔اگر آپ کو ان کی افسردگی کی فکر ہے۔تو آپ انہیں ساتھ کیوں نہیں لے جاتے۔اس پر والد صاحب بھی کچھ افسردہ ہو گئے اور فرمایا۔سچ جانیئے ابھی ان کا مکان تیار نہیں ہوا۔جب تیار ہو جائے گا۔میں خود آ کر انہیں لے جاؤں گا۔۱۹۳۶ء کی جنوری کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ والدہ صاحبہ کو خاکسار نے بہت افسردہ دیکھا تو سبب دریافت کرنے پر انہوں نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ اسد اللہ خاں قتل ہو گیا ہے اور اُس نے وصیت کی ہے کہ میرے بڑے بھائی میرے بچوں کی پرورش کریں۔میں نے والدہ صاحبہ کو تسلی دینے کی کوشش کی کہ خواب تعبیر طلب ہوتے ہیں اور بہر صورت دفع بلا کے لئے صدقہ دینا چاہئے اور دعائیں کرنی چاہئیں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ صدقہ کا تو میں نے صبح ہی انتظام کر دیا تھا اور دعا کر رہی ہوں اور کرتی رہونگی۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔دو یا تین دن کے بعد عزیز اسد اللہ خان ہمیں ملنے کے لئے دہلی آیا اور بیان کیا