میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 73 of 102

میری والدہ — Page 73

۷۳ عزیز اسد اللہ خان چھوٹی عمرکا تھا کہ اس سے سلیٹ گم ہوگئی یا ٹوٹ گئی۔والدہ صاحبہ اسے بہت خفا ہوئیں کہ ہر چند دن کے بعد نئی سلیٹ لیتے ہو اور اسے توڑ دیتے ہو یا کم کر دیتے ہو۔والدہ صاحبہ کے خفا ہونے سے وہ بہت سہم گیا۔اُسی رات والیدہ صاحبہ نے رویا میں ایک نہایت نورانی شکل والے سفید پوش بزرگ کو دیکھا۔جنہوں نے فرمایا۔” آپ نے ایک چار آنہ کی چیز ضائع ہو جانے پر ہمارے بندے پر اس قدر غضب کا اظہار کیا۔یہ لیجئے چار آنے میں دے دیتا ہوں اور انہوں نے ایک چمکتی ہوئی چونی والدہ صاحبہ کو دی۔والدہ صاحبہ بیدار ہوئیں تو فجر ہونے کو تھی۔لوٹے میں پانی لے کر وضو کے لئے اُوپر کی منزل پر گئیں۔چاندنی ہو رہی تھی۔جب چھت پر آسمان کے نیچے پہنچیں تو کوئی چھکتی ہوئی چیز تیزی سے آسمان سے گرتی ہوئی دیکھی۔وہ چیز اُن کے لوٹے کے ساتھ آکر ٹکرائی اور ٹکرانے کی آواز ایسی تھی کہ گویا یہ چیز چاندی کی یا کسی اور ای قسم کی دھات کی ہے۔لوٹے سے ٹکرا کر یہ چیز زمین پر گر گئی۔والدہ صاحبہ نے اُسے اٹھالیا اور دیکھا کہ وہ ایک چمکتی ہوئی چونی ہے۔والدہ صاحبہ نے اُسے تبرک کے طور پر جیب میں ڈال لیا اور کچھ دن تو اُسے احتیاط سے الگ سنبھالے رکھا۔لیکن چند دن کے بعد وہ کم ہو گئی۔غالباً باقی سکوں کے ساتھ کہیں مل گئی اور خرچ کر دی گئی۔والد صاحب کی وفات کے بعد دو تین دفعہ والدہ صاحبہ نے انہیں خواب میں اسی رنگ میں دیکھا کہ وہ نو جوان عورت جسے والدہ صاحبہ نے والد صاحب کی وفات سے تین دن قبل خواب میں دیکھا تھا کہ اُسی کمرہ میں بیٹھی ہے۔جس میں والد صاحب کام کر رہے ہیں۔اب بھی ان کی خدمت میں مصروف ہے۔جب دوسری تیسری دفعہ یہی نظارہ والدہ صاحبہ نے دیکھا۔تو خواب میں اُن کے دل میں کچھ قبض سی محسوس ہوئی کہ یہ عورت ہر وقت ان کے ساتھ کیوں رہتی ہے۔لیکن والدہ صاحبہ نے اس امر کا کوئی اظہار نہ خواب میں کیا اور نہ بیدار ہو کر۔کچھ عرصہ بعد میری ایک