میری والدہ — Page 72
۷۲ لیکن یہ محض نمونہ کے طور پر ہیں۔ورنہ یہ سلسلہ اُن کی اوائل عمر سے لے کر آخر تک جاری رہا اور بہت کثرت سے وہ بچے خواب اور رویا دیکھا کرتی تھیں۔اُن کو خود بھی اپنے رویا اور خوابوں پر پورا یقین تھا اور ہم سب بھی جو قریباً ہر روز ان کے رویا اور خوابوں کی قبولیت دعا کا مشاہدہ کرتے تھے اُن پر پورا یقین رکھتے تھے اور یہ مشاہدہ ہمارے ایمانوں کی مضبوطی کا باعث ہوتا تھا۔کیونک دنیا خواہ ایسی باتوں پر شک کرے ہمارے لئے یہ روزانہ مشاہدہ کی بات تھی اور ہم ایسے روحانی امور کے مشاہدہ کی بناء پر قائل تھے۔بعض دفعہ والدہ صاحبہ کو الہام بھی ہوتا تھا۔لیکن وہ انکسار کی وجہ سے اس کا نام الہام نہیں رکھتی تھیں۔اب میں مثال کے طور پر اُن کے بعض ایسے رویاء کا ذکر کرتا ہوں۔جو کوئی نہ کوئی خصوصیت اپنے اندر رکھتے ہیں۔1910ء میں آپ نے خواب میں دیکھا کہ سیالکوٹ چھاؤنی کے بڑے گر جائے بُرج میں سے ایک بڑا پتھر گر گیا ہے اور بُرج میں خلا ہو گیا ہے۔خواب میں آپ نے میری پھوپھی زاد ہمشیرہ شریفہ بی بی سے کہا۔دیکھو یہ خلا کیسا بد نما معلوم ہوتا ہے۔شریفہ بی بی نے کہا۔ممانی جان دیکھئے وہ سنگساز ایک بالکل ویسا ہی پتھر تراش کر تیار کر رہے ہیں۔جو ابھی گرے ہوئے پتھر کی جگہ لگا دیا جائے گا۔چند دن بعد شاہ ایڈورڈ ہفتم کا انتقال ہوگیا اور شاہ جارج پنجم اُن کی جگہ تخت نشین ہوئے۔۱۹۳۶ء کے آخر میں جب شاہ ایڈورڈ ہشتم کی شادی کے متعلق اخبارات میں چرچا ہونے لگا۔تو میں نے ایک روز والدہ صاحبہ سے عرض کیا کہ آپ بادشاہ کے لئے دعا کریں۔وہ اس قسم کی مشکل میں گرفتار ہیں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔چند دن سے میں متواتر خواب میں شور و غوغا اور بے چینی کے نظارے دیکھ رہی ہوں۔ممکن ہے یہ بادشاہ کے متعلق ہی اشارہ ہو۔اچھا میں دعا کرونگی۔بعد میں میں نے دو تین بار دریافت کیا تو فرمایا۔شور بڑھ رہا ہے کم نہیں ہوتا۔مجھے خوف ہے کہ نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔چنانچہ چند دن بعد شاہ ایڈورڈ ہفتم تخت سے دست بردار ہو گئے۔