میری والدہ — Page 67
16 ایک بازو والدہ صاحبہ کی کمر کے گرد ڈال لیا کرتی تھیں اور بالکل ان کے ساتھل کر بیٹھا کرتی تھیں۔اب بھی یہ دونوں ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔لیڈی ولنگڈن کسی کسی وقت اپنے فارغ ہاتھ سے والدہ صاحبہ کے ہاتھ بھی دباتی جاتی تھیں۔وائسرائے کے سوال کرنے پر والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ہاں میں نے بہت غور کے بعد آپ تک پہنچنے کی جرات کی ہے۔میں احمد یہ جماعت کی ایک فرد ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ہمارے سلسلہ کے بانی تھے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ہم سلطنت برطانیہ کے وفادار ر ہیں اور اس کے لئے دعا کرتے رہیں۔کیونکہ اس عملداری میں ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے اور ہم بغیر خوف وخطر کے اپنے دین کے احکام بجالا سکتے ہیں۔میں باقی جماعت کے متعلق تو نہیں کہ سکتی لیکن اپنے متعلق وثوق سے کہہ سکتی ہوں (یہاں والدہ صاحبہ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ لیا ) کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس ہدایت پر باقاعدہ عمل کرتی رہی ہوں اور سلطنت برطانیہ کے قیام اور اس کی بہبودی کے لئے متواتر دعا کرتی رہی نیوں۔لیکن دو سال کے عرصہ سے پنجاب کی حکومت کا ہماری جماعت کے ساتھ برتاؤ کچھ ایسا غیر منصفانہ ہو گیا ہے اور ہمارے امام اور ہماری جماعت کو ایسی ایسی تکالیف پہنچ رہی ہیں کہ دعا تو میں اب بھی کرتی ہوں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حکم ہے۔لیکن اب دعادل سے نہیں نکلتی۔کیونکہ میرا ادل خوش نہیں ہے۔ابھی چند دن کا ذکر ہے کہ ایک آوارہ اور شہد سے شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے اور ہمارے امام کے چھوٹے بھائی پر حملہ کر دیا اور انہیں ضربات پہنچا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد ہمیں اپنی جانوں سے بھی پیاری ہے اور میں نے جب سے اس واقعہ کی خبر سنی ہے۔میں نہ کھا سکتی ہوں نہ پی سکتی ہوں نہ مجھے نیند آتی ہے۔آتی یہ فقرے والدہ صاحبہ نے کچھ ایسے در دستے کہے کہ لیڈی والنگڈن کا چہرہ بالکل