میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 66 of 102

میری والدہ — Page 66

۶۶ میں نے دریافت کیا کہ کیا تجویز ہے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔لیڈی ولنگڈن میرے ساتھ بہت محبت کا اظہار کرتی ہیں اور میں بھی محسوس کرتی ہوں کہ انہیں ضرور میرے ساتھ کچھ لگاؤ ہے۔اگر تم ان کے ساتھ میر کی ملاقات کا وقت مقرر کر دو اور وائسرائے بھی اُس وقت موجود ہوں۔تو میں اُن کے سامنے بیان کروں کہ سلسلہ کے ساتھ حکومت کی طرف سے کیسا سلوک ہو رہا ہے اور اب اُس کا نتیجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لخت جگر پر ایک آوارہ آدمی نے حملہ کر دیا ہے۔میں اب بوڑھی عورت ہوں میرے متعلق تو پردہ کی بھی کوئی سخت پابندی نہیں اور میرے دل میں بار بار یہ بات اٹھتی ہے کہ میں وائسرائے کے سامنے جا کر یہ شکوہ کروں۔میں نے کہا ملاقات کا انتظام تو میں کرادوں گا اور ترجمانی کے لئے ساتھ بھی چلوں گا۔لیکن بات ساری آپ نے خود ہی کرنی ہوگی۔میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکوں گا۔ورنہ وہ خیال کریں گے کہ میں آپ کو سکھا کر لایا ہوں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا تم وقت مقرر کرا دو۔بات کرنے کی ہمت اللہ تعالیٰ مجھے عطا کر دیگا۔چنانچہ میں نے وائسرائے صاحب سے ذکر کیا۔انہوں نے کہا بڑی خوشی سے تشریف لائیں۔وائسرائے ہند سے ملاقات وقت مقررہ پر ہم دونوں وائسرائے اور لیڈ کی ولنگڈن کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔مزاج پرسی کے بعد وائسرائے صاحب نے کہا ظفر اللہ خاں نے مجھے کہا ہے کہ آپ اپنی جماعت کے متعلق مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتی ہیں۔والدہ صاحبہ اور لیڈی ولنگڈن ایک صوفہ پر بیٹھی ہوئی تھیں۔لیڈی ولنگڈن کی دائیں طرف وائسرائے ایک آرام کرسی پر بیٹھے تھے اور والدہ صاحبہ کی بانہیں طرف خاکسار ایک دوسری آرام کرسی پر بیٹھا تھا۔لیڈی ولنگڈن کا معمول تھا کہ جب والدہ صاحبہ کے پاس بیٹھتی تھیں۔تو