میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 68 of 102

میری والدہ — Page 68

متغیر ہو گیا اور انہوں نے جھنجلا کر وائسرائے سے دریافت کیا کہ یہ کیا واقعہ ہے اور آپ نے کیوں مناسب انتظام نہیں کیا ؟ وائسرائے نے جواب دیا۔میں نے ظفر اللہ خاں کے ساتھ تفصیلاً اس کے متعلق گفتگو کی ہے اور والدہ صاحبہ سے مخاطب ہو کر کہا۔اصل بات یہ ہے کہ یہ امور گورنر صاحب پنجاب کے اختیار میں ہیں اور میں ان کے متعلق اُن کے نام کوئی حکم جاری نہیں کر سکتا۔اگر میں ان معاملات میں دخل دوں تو وہ پُر امنائیں گے۔جب میں خود بمبئی یا مدراس کا گورنر تھا اگر اس وقت کے وائسرائے ایسے معاملات میں میرے نام کوئی حکم جاری کرتے تو میں بھی بُرا منا تا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا۔میں آپ سے یہ نہیں کہتی کہ آپ ان کے نام حکم جاری کریں یا سختی سے کام لیں۔لیکن آخر اُن کے کام کی نگرانی بھی تو آپ ہی کے سپرد ہے۔آپ انہیں نرمی اور محبت سے سمجھائیں کہ وہ ہماری شکایات کو رفع کریں۔وائسرائے نے کہا۔ہاں میں ایسا ضرور کرونگا۔لیکن لیڈی ولنگڈن کا جوش وائسرائے کے اس جواب سے ٹھنڈا نہ ہوا۔وہ والدہ صاحبہ کے ہاتھ دباتیں اور محبت کے کلمات سے اُن کو مخاطب کرتیں اور بار بار کہتیں میں خود پنجاب کے گورنر کو سمجھاؤں گی۔آپ گھبرا نہیں نہیں میں اس کوسر زنش کرونگی اور مجھ سے اصرار کے ساتھ کہتیں کہ میری بات کا حیح حیح ترجمہ کرو۔ایک اور موقعہ پر لارڈ ولنگڈن نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ کیا ایک ملک کی حکومت کا انتظام زیادہ آسان ہے یا ایک گھر کا انتظام؟ والدہ صاحبہ نے جواب دیا۔دونوں میں سے جس کو اللہ تعالی زیادہ آسان کر دے۔وائسرائے کو اس جواب سے بہت استعجاب ہوا۔