میری والدہ — Page 60
اُس کا اور کوئی دشمن نہیں ہوسکتا۔اُن کا اکثر یہ معمول تھا کہ یتامیٰ اور مساکین کے لئے اپنے ہاتھ سے پار چات تیار کرتی رہتی تھیں اور بغیر حاجتمند کے سوال کے انتظار کئے اُن کی حاجت روائی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق کے مطابق کرتی رہتی تھیں۔ایک روز ڈسکہ میں کچھ پار چات تیار کر رہی تھیں کہ میاں جہاں نے دریافت کیا یہ پار چات کس کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا فلاں شخص کے بچوں کے لئے۔میاں جُہاں نے ہنس کر کہا۔آپ کا بھی عجب طریق ہے۔وہ تو احراری ہے اور ہمارا مخالف ہے اور یہ لوگ ہر روز ہمارے خلاف کوئی نہ کوئی نئی شرارت کھڑی کر دیتے ہیں اور آپ اُس کے بچوں کے لئے کپڑے تیار کر رہے ہیں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا وہ شرارت کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت کرتا۔جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے۔مخالف کی شرارتیں ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔سکتیں۔لیکن یہ شخص مفلس ہے۔اس کے پاس اپنے بچوں اور پوتوں کے بدن ڈھانکنے کے لئے کپڑے مہیا کرنے کا سامان نہیں۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ تعالی کو یہ پسند ہے کہ اس کے بچے اور پوتے ننگے پھریں؟ اور تم نے جو میری بات کو نا پسند کیا ہے۔اس کی سزا یہ ہے کہ یہ کپڑے جب تیار ہو جائیں۔تو تم ہی انہیں لے کر جاتا اور اُس شخص کے گھر پہنچا کر آنا۔لیکن لے جانا رات کے وقت تا کہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ میں نے بھیجے ہیں۔ورنہ دوسرے احراری اُسے دق کریں گے کہ تم نے احمدیوں سے یہ اشیاء کیوں لیں۔انہی ایام میں ہمارے گاؤں کے ایک ساہوکار نے ایک غریب کسان کے مویشی ایک ڈگری کے سلسلہ میں فرق کر لئے۔یہ کسان بھی احراریوں میں شامل تھا۔قرق شدہ مویشیوں میں ایک بچھڑی بھی تھی۔قرقی کے وقت کسان کے کم سن لڑکے نے پچھڑی کی ری پکڑ لی کہ یہ پچھڑی میرے باپ نے مجھے دی ہوئی ہے۔میں یہ نہیں لے جانے دوں گا۔ڈگری دار نے یہ بچھڑی بھی فرق کرالی۔اس سے چند روز